51 : Adh Dhariyat

۵۱ : سورة الذاريات

SURAH ADH-DHARIYAAT (THE SCATTERERS)

There are 60 verses in this surah and it was revealed in Mecca. In Tafseer of Majma’ul Bayan it is narrated from the Holy Prophet (S) that the reward for reciting this surah is ten times the number of moving winds or breezes.

Imam Ja’far as-Sadiq (a.s.) has said that recitation of this surah increases ones sustenance and makes it easy to earn. Drinking water in which this surah was dissolved after being written acts as a remedy for back problems (e.g. backaches). If a pregnant woman wears a taweez of surah ad-Dhariyaat, her pregnancy and delivery will be easy. Keeping this surah close to a dying person makes his death easy.

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful.

وَالذّٰرِيٰتِ ذَرْوًا ۙ‏(1)

(1) I swear by the wind that scatters far and wide,

(1) ان ہواؤں کی قسم جو بادلوں کو منتشر کرنے والی ہیں

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا ۙ‏(2)

(2) Then those clouds bearing the load (of minute things in space).

(2) بھر بادل کا بوجھ اٹھانے والی ہیں

فَالْجٰرِيٰتِ يُسْرًا ۙ‏(3)

(3) Then those (ships) that glide easily,

(3) پھر دھیرے دھیرے چلنے والی ہیں

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۙ‏(4)

(4) Then those (angels who) distribute blessings by Our command;

(4) پھر ایک امر کی تقسیم کرنے والی ہیں

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ۙ‏(5)

(5) What you are threatened with is most surely true,

(5) تم سے جس بات کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سچی ہے

وَّاِنَّ الدِّيْنَ لوَاقِعٌ ؕ‏(6)

(6) And the Judgement must most surely come about.

(6) اور جزاء و سزا بہرحال واقع ہونے والی ہے

وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ۙ‏(7)

(7) I swear by the heaven full of ways.

(7) اور مختلف راستوں والے آسمان کی قسم

اِنَّكُمْ لَفِىْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ۙ‏(8)

(8) Most surely you are at variance witheach other in what you say,

(8) کہ تم لوگ مختلف باتوں میں پڑے ہوئے ہو

يُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَ ؕ‏(9)

(9) He is turned away from it who would be turned away.

(9) حق سے وہی گمراہ کیا جاسکتا ہے جو بہکایا جاچکا ہے

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ‏(10)

(10) Cursed be the liars,

(10) بیشک اٹکل پچو لگانے والے مارے جائیں گے

الَّذِيْنَ هُمْ فِىْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ‏(11)

(11) Who are in a gulf (of ignorance) neglectful;

(11) جو اپنی غفلت میں بھولے پڑے ہوئے ہیں

يَسْئَلُوْنَ اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِؕ‏(12)

(12) They ask: When is the day of Judgement?

(12) یہ پوچھتے ہیں کہ آخر قیامت کا دن کب آئے گا

يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُوْنَ‏(13)

(13) (It is) the day on which they shall be tried at the fire.

(13) تو یہ وہی دن ہے جس دن انہیں جہّنم کی آگ پر تپایا جائے گا

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْؕ هٰذَا الَّذِىْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ‏(14)

(14) Taste your persecution! this is what you would hasten on.

(14) کہ اب اپنا عذاب چکھو اور یہی وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی مچائے ہوئے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِىْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍۙ‏(15)

(15) Surely those who guard (against evil) shall be in gardens and fountains.

(15) بیشک متقی افراد باغات اور چشموں کے درمیان ہوں گے

اٰخِذِيْنَ مَاۤ اٰتٰٮهُمْ رَبُّهُمْ‌ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَؕ‏(16)

(16) Taking what their Lord gives them; surely they were before that, the doers of good.

(16) جو کچھ ان کا پروردگار عطا کرنے والا ہے اسے وصول کررہے ہوں گے کہ یہ لوگ پہلے سے نیک کردار تھے

كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ‏(17)

(17) They used to sleep but little in the night.

(17) یہ رات کے وقت بہت کم سوتے تھے

وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ‏(18)

(18) And in the morning they asked forgiveness.

(18) اور سحر کے وقت اللہ کی بارگاہ میں استغفار کیا کرتے تھے

وَفِىْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ‏(19)

(19) And in their property was a portion due to him who begs and to him who is denied (good).

(19) اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے محروم افراد کے لئے ایک حق تھا

وَفِى الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَۙ‏(20)

(20) And in the earth there are signs for those who are sure,

(20) اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں

وَفِىْۤ اَنْفُسِكُمْ‌ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ‏(21)

(21) And in your own souls (too); will you not then see?

(21) اور خود تمہارے اندر بھی - کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو

وَفِى السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ‏(22)

(22) And in the heaven is your sustenance and what you are threatened with.

(22) اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے سب کچھ موجود ہے

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ‏(23)

(23) And by the Lord of the heavens and the earth! it is most surely the truth, just as you do speak.

(23) آسمان و زمین کے مالک کی قسم یہ قرآن بالکل برحق ہے جس طرح تم خو دباتیں کررہے ہو

هَلْ اَتٰٮكَ حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ الْمُكْرَمِيْنَ‌ۘ‏(24)

(24) Has there come to you information about the honored guests of Ibrahim?

(24) کیا تمہارے پاس ابراہیم علیھ السّلام کے محترم مہمانوں کا ذکر پہنچا ہے

اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا‌ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ‌‏(25)

(25) When they entered upon him, they said: Peace. Peace, said he, a strange people.

(25) جب وہ ان کے پاس وارد ہوئے اور سلام کیا تو ابراہیم علیھ السّلام نے جواب سلام دیتے ہوئے کہا کہ تم تو انجانی قوم معلوم ہوتے ہو

فَرَاغَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍۙ‏(26)

(26) Then he turned aside to his family secretly and brought a fat (roasted) calf,

(26) پھر اپنے گھر جاکر ایک موٹا تازہ بچھڑا تیار کرکے لے آئے

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ‏(27)

(27) So he brought it near them. He said: What! will you not eat?

(27) پھر ان کی طرف بڑھادیا اور کہا کیا آپ لوگ نہیں کھاتے ہیں

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً‌ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ‌ ؕ وَبَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ‏(28)

(28) So he conceived in his mind a fear on account of them. They said: Fear not. And they gave him the good news of a boy possessing knowledge.

(28) پھر اپنے نفس میں خوف کا احساس کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں اور پھر انہیں ایک دانشمند فرزند کی بشارت دیدی

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِىْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ‏(29)

(29) Then his wife came up in great grief, and she struck her face and said: An old barren woman!

(29) یہ سن کر ان کی زوجہ شور مچاتی ہوئی آئیں اور انہوں نے منہ پیٹ لیا کہ میں بڑھیا بانجھ (یہ کیا بات ہے)

قَالُوْا كَذٰلِكِ ۙ قَالَ رَبُّكِ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ‏(30)

(30) They said: Thus says your Lord: Surely He is the Wise, the Knowing.

(30) ان لوگوں نے کہا یہ ایسا ہی ہوگا یہ تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے وہ بڑی حکمت والا اور ہر چیز کا جاننے والا ہے

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ‏(31)

(31) He said: What is your affair then, O apostles!

(31) ابراہیم علیھ السّلام نے کہا کہ اے فرشتو تمہیں کیا مہم درپیش ہے

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِيْنَۙ‏(32)

(32) They said: Surely we are sent to a guilty people,

(32) انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے

لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِيْنٍۙ‏(33)

(33) That we may send down upon them stone of clay,

(33) تاکہ ان کے اوپر مٹی کے کھرنجے دار پتھر برسائیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِيْنَ‏(34)

(34) Sent forth from your Lord for the extravagant.

(34) جن پر پروردگار کی طرف سے حد سے گزر جانے والوں کے لئے نشانی لگی ہوئی ہے

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ‌ۚ‏(35)

(35) Then We brought forth such as were therein of the believers.

(35) پھر ہم نے اس بستی کے تمام مومنین کو باہر نکال لیا

فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ‌ۚ‏(36)

(36) But We did not find therein save a (single) house of those who submitted (the Muslims).

(36) اور وہاں مسلمانوں کے ایک گھر کے علاوہ کسی کو پایا بھی نہیں

وَتَرَكْنَا فِيْهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَؕ‏(37)

(37) And We left therein a sign for those who fear the painful punishment.

(37) اور وہاں ان لوگوں کے لئے ایک نشانی بھی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرنے والے ہیں

وَفِىْ مُوْسٰۤی اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ‏(38)

(38) And in Musa: When We sent him to Firon with clear authority.

(38) اور موسٰی علیھ السّلام کے واقعہ میں بھی ہماری نشانیاں ہیں جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ‏(39)

(39) But he turned away with his forces and said: A magician or a mad man.

(39) تو اس نے لشکر کے دِم پر منہ موڑ لیا اور کہا کہ یہ جادوگر یا دیوانہ ہے

فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِى الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيْمٌؕ‏(40)

(40) So We seized him and his hosts and hurled them into the sea and he was blamable.

(40) تو ہم نے اسے اور اس کی فوج کو گرفت میں لے کر دریا میں ڈال دیا اور وہ قابل ملامت تھا ہی

وَفِىْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ‌ۚ‏(41)

(41) And in Ad: When We sent upon them the destructive wind.

(41) اور قوم عاد میں بھی ایک نشانی ہے جب ہم نے ان کی طرف بانجھ ہوا کو چلا دیا

مَا تَذَرُ مِنْ شَىْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِؕ‏(42)

(42) It did not leave aught on which it blew, but it made it like ashes.

(42) کہ جس چیز کے پاس سے گزر جاتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح ریزہ ریزہ کردیتی تھی

وَفِىْ ثَمُوْدَ اِذْ قِيْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ‏(43)

(43) And in Samood: When it was said to them: Enjoy yourselves for a while.

(43) اور قوم ثمود میں بھی ایک نشانی ہے جب ان سے کہا گیا کہ تھوڑے دنوں مزے کرلو

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ يَنْظُرُوْنَ‏(44)

(44) But they revolted against the commandment of their Lord, so the rumbling overtook them while they saw.

(44) تو ان لوگوں نے حکم خدا کی نافرمانی کی تو انہیں بجلی نے اپنی گرفت میں لے لیا اور وہ دیکھتے ہی رہ گئے

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ وَّمَا كَانُوْا مُنْتَصِرِيْنَۙ‏(45)

(45) So they were not able to rise up, nor could they defend themselves-

(45) پھر نہ وہ اٹھنے کے قابل تھے اور نہ مدد طلب کرنے کے لائق تھے

وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ‌ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ‏(46)

(46) And the people of Nuh before, surely they were a transgressing people.

(46) اور ان سے پہلے قوم نوح تھی کہ وہ تو سب ہی فاسق اور بدکار تھے

وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْٮدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ‏(47)

(47) And the heaven, We raised it high with power, and most surely We are the makers of things ample.

(47) اور آسمان کو ہم نے اپنی طاقت سے بنایا ہے اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں

وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ‏(48)

(48) And the earth, We have made it a wide extent; how well have We then spread (it) out.

(48) اور زمین کو ہم نے فرش کیا ہے تو ہم بہترین ہموار کرنے والے ہیں

وَمِنْ كُلِّ شَىْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ‏(49)

(49) And of everything We have created pairs that you may be mindful.

(49) اور ہر شے میں سے ہم نے جوڑا بنایا ہے کہ شاید تم نصیحت حاصل کرسکو

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ‌ؕ اِنِّىْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ‌ۚ‏(50)

(50) Therefore fly to Allah, surely I am a plain warner to you from Him.

(50) لہذا اب خدا کی طرف دوڑ پڑو کہ میں کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں

وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ‌ؕ اِنِّىْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ‌ۚ‏(51)

(51) And do not set up with Allah another god: surely I am a plain warner to you from Him.

(51) اور خبردار اس کے ساتھ کسی دوسرے کو خدا نہ بنانا کہ میں تمہارے لئے واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ‌ۚ‏(52)

(52) Thus there did not come to those before them an apostle but they said: A magician or a mad man.

(52) اسی طرح ان سے پہلے کسی قوم کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر یہ کہ ان لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ

اَتَوَاصَوْا بِهٖ‌ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ‌ۚ‏(53)

(53) Have they charged each other with this? Nay! they are an inordinate people.

(53) کیا انہوں نے ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کی ہے - نہیں بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ‏(54)

(54) Then turn your back upon them for you are not to blame;

(54) لہٰذا آپ ان سے منہ موڑ لیں پھر آپ پر کوئی الزام نہیں ہے

وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(55)

(55) And continue to remind, for surely the reminder profits the believers.

(55) اور یاد دہانی بہرحال کراتے رہے کہ یاد دہانی صاحبانِ ایمان کے حق میں مفید ہوتی ہے

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ‏(56)

(56) And I have not created the jinn and the men except that they should serve Me.

(56) اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے

مَاۤ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَاۤ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ‏(57)

(57) I do not desire from them any sustenance and I do not desire that they should feed Me.

(57) میں ان سے نہ رزق کا طلبگار ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کچھ کھلائیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ‏(58)

(58) Surely Allah is the Bestower of sustenance, the Lord of Power, the Strong.

(58) بیشک رزق دینے والا, صاحبِ قوت اور زبردست صرف اللہ ہے

فَاِنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُوْنِ‏(59)

(59) So surely those who are unjust shall have a portion like the portion of their companions, therefore let them not ask Me to hasten on.

(59) پھر ان ظالمین کے لئے بھی ویسے ہی نتائج ہیں جیسے ان کے اصحاب کے لئے تھے لہذا یہ جلدی نہ کریں

فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ يَّوْمِهِمُ الَّذِىْ يُوْعَدُوْنَ‏(60)

(60) Therefore woe to those who disbelieve because of their day which they are threatened with.

(60) پھر کفار کے لئے اس دن ویل اور عذاب ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے