۱۲ : سورة يوسف
SURAH YUSUF
surah Yusuf has 111 verses and was revealed in Mecca. It is narrated that the Holy Prophet (S) said that whoever recites this surah and teaches his family members how to recite it, Allah (s.w.t) will make the final moments before his death (sakaraatul maut) easy for him and will remove jealousy from his heart.
It has been narrated from Imam Ja’far as-Sadiq that whoever recited this surah daily, he will be raised on the day of Qiyamah with the handsomeness of Prophet Yusuf (a.s.) and he will be protected from the fear and discomfort of this day. He will be raised among the pious servants of Allah (s.w.t). This surah also keeps one’s heart safe from illegitimate lustful desires.
The sixth Imam (a.s.) has also said that if a person drinks the water in which this surah has been dissolved, then his sustenance will be easier to reach and he will be made from the people of Paradise.
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful.
الٓرٰ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْن(1)
(1) Alif Lam Ra. These are the verses of the Book that makes (things) manifest.
(1) آلر-یہ کتاب مبین کی آیتیں ہیں
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(2)
(2) Surely We have revealed it-- an Arabic Quran-- that you may understand.
(2) ہم نے اسے عربی قرآن بناکر نازل کیا ہے کہ شاید تم لوگوں کو عقل آجائے
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ ۖ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ(3)
(3) We narrate to you the best of narratives, by Our revealing to you this Quran, though before this you were certainly one of those who did not know.
(3) پیغمبر ہم آپ کے سامنے ایک بہترین قصہ بیان کررہے ہیں جس کی وحی اس قرآن کے ذریعہ آپ کی طرف کی گئی ہے اگرچہ اس سے پہلے آپ اس کی طرف سے بے خبر لوگوں میں تھے
اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰۤاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِىْ سٰجِدِيْنَ(4)
(4) When Yusuf said to his father: O my father! surely I saw eleven stars and the sun and the moon-- I saw them making obeisance to me.
(4) اس وقت کو یاد کرو جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ بابا میں نے خواب میں گیارہ ستاروں اور آفتاب و ماہتاب کو دیکھا ہے اور یہ دیکھا ہے کہ یہ سب میرے سامنے سجدہ کررہے ہیں
قَالَ يٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓى اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا ؕ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ(5)
(5) He said: O my son! do not relate your vision to your brothers, lest they devise a plan against you; surely the Shaitan is an open enemy to man.
(5) یعقوب نے کہا کہ بیٹا خبردار اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا کہ وہ لوگ الٹی سیدھی تدبیروں میں لگ جائیں گے کہ شیطان انسان کا بڑا کھلا ہوا دشمن ہے
وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓى اٰلِ يَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰٓى اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ(6)
(6) And thus will your Lord choose you and teach you the interpretation of sayings and make His favor complete to you and to the children of Yaqoub, as He made it complete before to your fathers, Ibrahim and Ishaq; surely your Lord is Knowing, Wise.
(6) اور اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں منتخب کرے گا اور تمہیں باتوں کی تاویل سکھائے گا اور تم پر اور یعقوب کی دوسری اولاد پر اپنی نعمت کو تمام کرے گا جس طرح تمہارے دادا پرداد ابراہیم اور اسحاق پر تمام کرچکا ہے بیشک تمہارا پروردگار بڑا جاننے والا ہے اور صاحب حکمت ہے
لَقَدْ كَانَ فِىْ يُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ لِّلسَّآئِلِيْنَ(7)
(7) Certainly in Yusuf and his brothers there are signs for the inquirers.
(7) یقینا یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعہ میں سوال کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں
اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰٓى اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ ۖ ۚ(8)
(8) When they said: Certainly Yusuf and his brother are dearer to our father than we, though we are a (stronger) company; most surely our father is in manifest error:
(8) جب ان لوگوں نے کہا کہ یوسف اور ان کے بھائی ) ابن یامین(ہمارے باپ کی نگاہ میں زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہماری ایک بڑی جماعت ہے یقیناہمارے ماں باپ ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں
۟اقْتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ(9)
(9) Slay Yusuf or cast him (forth) into some land, so that your father's regard may be exclusively for you, and after that you may be a righteous people.
(9) تم لوگ یوسف کو قتل کردو یا کسی زمین میں پھینک دو تو باپ کا رخ تمہاری ہی طرف ہوجائے گا اور تم سب ان کے بعد صالح قوم بن جاؤ گے
قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا يُوْسُفَ وَاَلْقُوْهُ فِىْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ(10)
(10) A speaker from among them said: Do not slay Yusuf, and cast him down into the bottom of the pit if you must do (it), (so that) some of the travellers may pick him up.
(10) ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ کسی اندھے کنویں میں ڈال دو تاکہ کوئی قافلہ اٹھالے جائے اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو
قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى يُوْسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ(11)
(11) They said: O our father! what reason have you that you do not trust in us with respect to Yusuf? And most surely we are his sincere well-wishers:
(11) ان لوگوں نے یعقوب سے کہا کہ بابا کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں حالانکہ ہم ان پر شفقت کرنے والے ہیں
اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(12)
(12) Send him with us tomorrow that he may enjoy himself and sport, and surely we will guard him well.
(12) کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کچھ کھائے پئے اور کھیلے اور ہم تو اس کی حفاظت کرنے والے موجود ہی ہیں
قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِىْ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ(13)
(13) He said: Surely it grieves me that you should take him off, and I fear lest the wolf devour him while you are heedless of him.
(13) یعقوب نے کہا کہ مجھے اس کالے جانا تکلیف پہنچاتا ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھاجائے اور تم غافل ہی رہ جاؤ
قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ(14)
(14) They said: Surely if the wolf should devour him notwithstanding that we are a (strong) company, we should then certainly be losers.
(14) اور ان لوگوں نے کہا کہ اگر اسے بھیڑیا کھاگیا اور ہم سب اس کے بھائی ہی ہیں تو ہم بڑے خسارہ والوں میں ہوجائیں گے
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْۤا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِىْ غَيٰبَتِ الْجُبِّۚ وَاَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ(15)
(15) So when they had gone off with him and agreed that they should put him down at the bottom of the pit, and We revealed to him: You will most certainly inform them of this their affair while they do not perceive.
(15) اس کے بعد جب وہ سب یوسف کو لے گئے اور یہ طے کرلیا کہ انہیں اندھے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے یوسف کی طرف وحی کردی کہ عنقریب تم ان کو اس سازش سے باخبر کرو گے اور انہیں خیال بھی نہ ہوگا
وَجَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً يَّبْكُوْنَؕ(16)
(16) And they came to their father at nightfall, weeping.
(16) اور وہ لوگ رات کے وقت باپ کے پاس روتے پیٹے آئے
قَالُوْا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُۚ وَمَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ(17)
(17) They said: O our father! surely we went off racing and left Yusuf by our goods, so the wolf devoured him, and you will not believe us though we are truthful.
(17) کہنے لگے بابا ہم دوڑ لگانے چلے گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو ایک بھیڑیا آکر انہیں کھاگیا اور آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم کتنے ہی سچے کیوں نہ ہوں
وَجَآءُوْ عَلٰى قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌؕ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ(18)
(18) And they brought his shirt with false blood upon it. He said: Nay, your souls have made the matter light for you, but patience is good and Allah is He Whose help is sought for against what you describe.
(18) اور یوسف کے کرتے پر جھوٹا خون لگاکر لے آئے -یعقوب نے کہا کہ یہ بات صرف تمہارے دل نے گڑھی ہے لہذا میرا راستہ صبر جمیل کا ہے اور اللہ تمہارے بیان کے مقابلہ میں میرا مددگارہے
وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ ؕ قَالَ يٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ ؕ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ(19)
(19) And there came travellers and they sent their water-drawer and he let down his bucket. He said: O good news! this is a youth; and they concealed him as an article of merchandise, and Allah knew what they did.
(19) اور وہاں ایک قافلہ آیا جس کے پانی نکالنے والے نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا تو آواز دی ارے واہ یہ تو بچہ ہے اور اسے ایک قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپالیا اور اللہ ان کے اعمال سے خوب باخبر ہے
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزّٰهِدِيْنَ(20)
(20) And they sold him for a small price, a few pieces of silver, and they showed no desire for him.
(20) اور ان لوگوں نے یوسف کو معمولی قیمت پر بیچ ڈالا چند درہم کے عوض اور وہ لوگ تو ان سے بیزار تھے ہی
وَقَالَ الَّذِى اشْتَرٰٮهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِىْ مَثْوٰٮهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا ؕ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِى الْاَرْضِوَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِؕ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓى اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ(21)
(21) And the Egyptian who bought him said to his wife: Give him an honorable abode, maybe he will be useful to us, or we may adopt him as a son. And thus did We establish Yusuf in the land and that We might teach him the interpretation of sayings; and Allah is the master of His affair, but most people do not know.
(21) اور مصر کے جس شخص نے انہیں خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہاکہ اسے عزّت و احترام کے ساتھ رکھو شاید یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا فرزند بنالیں اور اس طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اقتدار دیا اور تاکہ اس طرح انہیں خوابوں کی تعبیر کا علم سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غلبہ رکھنے والا ہے یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگوں کو اس کا علم نہیں ہے
وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ؕ وَكَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِيْنَ(22)
(22) And when he had attained his maturity, We gave him wisdom and knowledge: and thus do We reward those who do good.
(22) اور جب یوسف اپنی جوانی کی عمر کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکم اور علم عطا کردیا کہ ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزاء دیا کرتے ہیں
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِىْ هُوَ فِىْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّىْۤ اَحْسَنَ مَثْوَاىَؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(23)
(23) And she in whose house he was sought to make himself yield (to her), and she made fast the doors and said: Come forward. He said: I seek Allah's refuge, surely my Lord made good my abode: Surely the unjust do not prosper.
(23) اور اس نے ان سے اظہار محبتّ کیا جس کے گھر میں یوسف رہتے تھے اور دروازے بند کردیئے اور کہنے لگی لو آؤ یوسف نے کہا کہ معاذ اللہ وہ میرا مالک ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے اور ظلم کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّۤوْءَ وَالْفَحْشَآءَؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ(24)
(24) And certainly she made for him, and he would have made for her, were it not that he had seen the manifest evidence of his Lord; thus (it was) that We might turn away from him evil and indecency, surely he was one of Our sincere servants.
(24) اور یقینااس عورت نے ان سے برائی کا ارادہ کیااور وہ بھی ارادہ کربیٹھتے اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے یہ تو ہم نے اس طرح کا انتظام کیا کہ ان سے برائی اور بدکاری کا رخ موڑ دیں کہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے
وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْۤءًا اِلَّاۤ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ(25)
(25) And they both hastened to the door, and she rent his shirt from behind and they met her husband at the door. She said: What is the punishment of him who intends evil to your wife except imprisonment or a painful chastisement?
(25) اور دونوں نے دروازے کی طرف سبقت کی اور اس نے ان کا کرتا پیچھے سے پھاڑ دیا اور دونوں نے اس کے سردار کو دروازہ ہی پر دیکھ لیا -اس نے گھبرا کر فریاد کی کہ جو تمہاری عورت کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے علاوہ کیا ہے کہ اسے قیدی بنادیاجائے یا اس پر دردناک عذاب کیا جائے
قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِىْ عَنْ نَّفْسِىْ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَاۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ(26)
(26) He said: She sought to make me yield (to her); and a witness of her own family bore witness: If his shirt is rent from front, she speaks the truth and he is one of the liars:
(26) یوسف نے کہا کہ اس نے خود مجھ سے اظہار محبت ّکیا ہے اور اس پر اس کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی بھی دے دی کہ اگر ان کا دامن سامنے سے پھٹا ہے تو وہ سچی ہے اور یہ جھوٹوں میں سے ہیں
وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ(27)
(27) And if his shirt is rent from behind, she tells a lie and he is one of the truthful.
(27) اور اگر ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو وہ جھوٹی ہے یہ سچوں میں سے ہیں
فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّؕ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ(28)
(28) So when he saw his shirt rent from behind, he said: Surely it is a guile of you women; surely your guile is great:
(28) پھر جو دیکھاکہ ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے توا س نے کہا کہ یہ تم عورتوں کی مّکاری ہے تمہارا مکر بہت عظیم ہوتا ہے
يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا وَاسْتَغْفِرِىْ لِذَنْۢبِكِ ۖ ۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِٮئِيْنَ(29)
(29) O Yusuf! turn aside from this; and (O my wife)! ask forgiveness for your fault, surely you are one of the wrong-doers.
(29) یوسف اب تم اس سے اعراض کرو اور زلیخا تو اپنے گناہ کے لئے استغفار کر کہ تو خطاکاروں میں ہے
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰٮهَا عَنْ نَّفْسِهٖۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ؕ اِنَّا لَنَرٰٮهَا فِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ(30)
(30) And women in the city said: The chiefs wife seeks her slave to yield himself (to her), surely he has affected her deeply with (his) love; most surely we see her in manifest error.
(30) اور پھر شہر کی عورتوں نے کہنا شروع کردیا کہ عزیز مصر کی عورت اپنے جوان کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور اسے اس کی محبت نے مدہوش بنادیا تھا ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عورت بالکل ہی کھلی ہوئی گمراہی میں ہے
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّاٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّيْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَيْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ(31)
(31) So when she heard of their sly talk she sent for them and prepared for them a repast, and gave each of them a knife, and said (to Yusuf): Come forth to them. So when they saw him, they deemed him great, and cut their hands (in amazement), and said: Remote is Allah (from imperfection); this is not a mortal; this is but a noble angel.
(31) پھر جب زلیخا نے ان عورتوں کی مکاری اور تشہیر کا حال سنا تو بلا بھیجا اور ان کے لئے پرتکلف دعوت کا انتطام کرکے مسند لگادی اور سب کو ایک ایک چھری دے دی اور یوسف سے کہا کہ تم ان کے سامنے سے نکل جاؤ پھر جیسے ہی ان لوگوں نے دیکھا تو بڑا حسین و جمیل پایا اور اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور کہا کہ ماشاء اللہ یہ تو آدمی نہیں ہے بلکہ کوئی محترم فرشتہ ہے
قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِىْ لُمْتُنَّنِىْ فِيْهِؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَؕ وَلَئِنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ(32)
(32) She said: This is he with respect to whom you blamed me, and certainly I sought his yielding himself (to me), but he abstained, and if he does not do what I bid him, he shall certainly be imprisoned, and he shall certainly be of those who are in a state of ignominy.
(32) زلیخا نے کہا کہ یہی وہ ہے جس کے بارے میں تم لوگوں نے میری ملامت کی ہے اور میں نے اسے کھینچنا چاہا تھا کہ یہ بچ کر نکل گیا اور جب میری بات نہیں مانی تو اب قید کیا جائے گا اور ذلیل بھی ہوگا
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَىَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِىْۤ اِلَيْهِۚ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّىْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ(33)
(33) He said: My Lord! the prison house is dearer to me than that to which they invite me; and if Thou turn not away their device from me, I will yearn towards them and become (one) of the ignorant.
(33) یوسف نے کہا کہ پروردگار یہ قید مجھے اس کام سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ لوگ دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو ان کے مکر کو میری طرف سے موڑ نہ دے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوسکتا ہوں اور میرا شمار بھی جاہلوں میں ہوسکتا ہے
فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ(34)
(34) Thereupon his Lord accepted his prayer and turned away their guile from him; surely He is the Hearing, the Knowing.
(34) تو ان کے پروردگار نے ان کی بات قبول کرلی اور ان عورتوں کے مکر کو پھیر دیا کہ وہ سب کی سننے والا اور سب کا جاننے والا ہے
ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِيْنٍ(35)
(35) Then it occurred to them after they had seen the signs that they should imprison him till a time.
(35) اس کے بعد ان لوگوں کو تمام نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی یہ خیال آگیا کہ کچھ مدّت کے لئے یوسف کو قیدی بنا دیں
وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّىْۤ اَرٰٮنِىْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا ۚ وَقَالَ الْاٰخَرُ اِنِّىْۤ اَرٰٮنِىْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِىْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ(36)
(36) And two youths entered the prison with him. One of them said: I saw myself pressing wine. And the other said: I saw myself carrying bread on my head, of which birds ate. Inform us of its interpretation; surely we see you to be of the doers of good.
(36) اور قید خانہ میں ان کے ساتھ دو جوان اور داخل ہوئے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں اپنے کو شراب نچوڑتے دیکھا ہے اور دوسرے نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں لادے ہوں اور پرندے اس میں سے کھارہے ہیں -ذرا اس کی تاویل تو بتاؤ کہ ہماری نظر میں تم نیک کردار معلوم ہوتے ہو
قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا ؕ ذٰ لِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِىْ رَبِّىْ ؕ اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ(37)
(37) He said: There shall not come to you the food with which you are fed, but I will inform you both of its interpretation before it comes to you; this is of what my Lord has taught me; surely I have forsaken the religion of a people who do not believe in Allah, and they are deniers of the hereafter:
(37) یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو دیا جاتا ہے وہ نہ آنے پائے گا اور میں تمہیں تعبیر بتادوں گا -یہ تعبیر مجھے میرے پروردگار نے بتائی ہے اور میں نے اس قوم کے راستے کو چھوڑ دیا ہے جس کا ایمان اللہ پر نہیں ہے اور وہ روز آخرت کا بھی انکار کرنے والی ہے
وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِىْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَىْءٍؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ(38)
(38) And I follow the religion of my fathers, Ibrahim and Ishaq and Yaqoub; it beseems us not that we should associate aught with Allah; this is by Allah's grace upon us and on mankind, but most people do not give thanks:
(38) میں اپنے باپ دادا ابراہیم -اسحاق اور یعقوب کے طریقے کا پیرو ہوں -میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ میں کسی چیز کو بھی خدا کا شریک بناؤں -یہ تو میرے اوپر اور تمام انسانوں پر خدا کا فضل و کرم ہے لیکن انسانوں کی اکثریت شکر خدا نہیں کرتی ہے
يٰصَاحِبَىِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ(39)
(39) O my two mates of the prison! are sundry lords better or Allah the One, the Supreme?
(39) میرے قید خانے کے ساتھیو !ذرا یہ تو بتاؤ کہ متفرق قسم کے خدا بہتر ہوتے ہیں یا ایک خدائے واحدُ و قہار
مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ(40)
(40) You do not serve besides Him but names which you have named, you and your fathers; Allah has not sent down any authority for them; Judgement is only Allah's; He has commanded that you shall not serve aught but Him; this is the right religion but most people do not know:
(40) تم اس خدا کو چھوڑ کر صرف ان ناموں کی پرستش کرتے ہو جنہیں تم نے خود رکھ لیا ہے یا تمہارے آباء و اجداد نے -اللہ نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے جب کہ حکم کرنے کا حق صرف خدا کو ہے اور اسی نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے کہ یہی مستحکم اور سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ہیں
يٰصَاحِبَىِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِىْ رَبَّهٗ خَمْرًاۚ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْ رَّاْسِهٖؕ قُضِىَ الْاَمْرُ الَّذِىْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِؕ(41)
(41) O my two mates of the prison! as for one of you, he shall give his lord to drink wine; and as for the other, he shall be crucified, so that the birds shall eat from his head, the matter is decreed concerning which you inquired.
(41) میرے قید خانے کے ساتھیو تم سے ایک اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور دوسرا سولی پر لٹکادیا جائے گا اور پرندے اس کے سر سے نوچ نوچ کر کھائیں گے یہ اس بات کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے جس کے بارے میں تم سوال کررہے ہو
وَقَالَ لِلَّذِىْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِىْ عِنْدَ رَبِّكَ فَاَنْسٰٮهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِى السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ(42)
(42) And he said to him whom he knew would be delivered of the two: Remember me with your lord; but the Shaitan caused him to forget mentioning (it) to his lord, so he remained in the prison a few years.
(42) اور پھر جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ نجات پانے والا ہے اس سے کہا کہ ذرا اپنے مالک سے میرا بھی ذکر کردینا لیکن شیطان نے اسے مالک سے ذکر کرنے کو بھلا دیا اور یوسف چند سال تک قید خانے ہی میں پڑے رہے
وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍؕ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِىْ فِىْ رُءْيَاىَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ(43)
(43) And the king said: Surely I see seven fat kine which seven lean ones devoured; and seven green ears and (seven) others dry: O chiefs! explain to me my dream, if you can interpret the dream.
(43) اور پھر ایک دن بادشاہ نے لوگوں سے کہا کہ میں نے خواب میں سات موٹی گائیں دیکھی ہیں جنہیں سات پتلی گائیں کھائے جارہی ہیں اور سات ہری تازی بالیاں دیکھی ہیں اور سات خشک بالیاں دیکھی ہیں تم سب میرے خواب کے بارے میں رائے دو اگر تمہیں خواب کی تعمبیر دینا آتا ہو تو
قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۚ وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِيْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِيْنَ(44)
(44) They said: Confused dreams, and we do not know the interpretation of dreams.
(44) ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو ایک خوابِ پریشاں ہے اور ہم ایسے خوابوں کی تاویل سے باخبر نہیں ہیں
وَقَالَ الَّذِىْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِيْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ(45)
(45) And of the two (prisoners) he who had found deliverance and remembered after a long time said: I will inform you of its interpretation, so let me go:
(45) اور پھر دونوں قیدیوں میں سے جو بچ گیا تھا اور جسے ایک مدت کے بعد یوسف کا پیغام یاد آیا اس نے کہا کہ میں تمہیں اس کی تعبیر سے باخبر کرتا ہوں لیکن ذرا مجھے بھیج تو دو
يُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ اَ فْتِنَا فِىْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّىْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُوْنَ(46)
(46) Yusuf! O truthful one! explain to us seven fat kine which seven lean ones devoured, and seven green ears and (seven) others dry, that I may go back to the people so that they may know.
(46) یوسف اے مرد صدیق !ذرا ان سات موٹی گایوں کے بارے میں جنہیں سات دبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات ہری بالیوں اور سات خشک بالیوں کے بارے میں اپنی رائے تو بتاؤ شاید میں لوگوں کے پاس باخبر واپس جاؤں تو شاید انہیں بھی علم ہوجائے
قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًاۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِىْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ(47)
(47) He said: You shall sow for seven years continuously, then what you reap leave it in its ear except a little of which you eat.
(47) یوسف نے کہا کہ تم لوگ سات برس تک مسلسل زراعت کرو گے تو جو غلہ پیدا ہو اسے بالیوں سمیت رکھ دینا علاوہ تھوڑی مقدار کے کہ جو تمہارے کھانے کے کام میں آئے
ثُمَّ يَاْتِىْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ(48)
(48) Then there shall come after that seven years of hardship which shall eat away all that you have beforehand laid up in store for them, except a little of what you shall have preserved:
(48) اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے جو تمہارے سارے ذخیرہ کو کھاجائیں گے علاوہ اس تھوڑے مال کے جو تم نے بچا کر رکھا ہے
ثُمَّ يَاْتِىْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ(49)
(49) Then there will come after that a year in which people shall have rain and in which they shall press (grapes).
(49) اس کے بعد ایک سال آئے گاجس میں لوگوں کی فریاد رسی اور بارش ہوگی اور لوگ خوب انگورنچوڑیں گے
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِىْ بِهٖۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِىْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّؕ اِنَّ رَبِّىْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ(50)
(50) And the king said: Bring him to me. So when the messenger came to him, he said: Go back to your lord and ask him, what is the case of the women who cut their hands; surely my Lord knows their guile.
(50) تو بادشاہ نے یہ سن کر کہا کہ ذرا اسے یہاں تو لے آؤ پس جب نمائندہ آیا تو یوسف نے کہا کہ اپنے مالک کے پاس پلٹ کر جاؤ اور پوچھو کہ ان عورتوں کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے کہ میرا پروردگار ان کے مکر سے خوب باخبر ہے
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۤءٍ ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ(51)
(51) He said: How was your affair when you sought Yusuf to yield himself (to you)? They said: Remote is Allah (from imperfection), we knew of no evil on his part. The chief's wife said: Now has the truth become established: I sought him to yield himself (to me), and he is most surely of the truthful ones.
(51) بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا کہ آخر تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف سے اظہار تعلق کیا تھا ان لوگوں نے کہا کہ ماشاء اللہ ہم نے ہرگز ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی -تو عزیز مصر کی بیوی نے کہا کہ اب حق بالکل واضح ہوگیا ہے کہ میں نے خود انہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ صادقین میں سے ہیں
ذٰ لِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِىْ كَيْدَ الْخَآئِنِيْنَ(52)
(52) This is that he might know that I have not been unfaithful to him in secret and that Allah does not guide the device of the unfaithful.
(52) یوسف نے کہا کہ یہ ساری بات اس لئے ہے کہ بادشاہ کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی ہے اور خدا خیانت کاروں کے مکر کو کامیاب نہیں ہونے دیتا
وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِىْۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىْ ؕاِنَّ رَبِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ(53)
(53) And I do not declare myself free, most surely (man's) self is wont to command (him to do) evil, except such as my Lord has had mercy on, surely my Lord is Forgiving, Merciful.
(53) اور میں اپنے نفس کو بھی بری نہیں قرار دیتا کہ نفس بہرحال برائیوں کا حکم دینے والا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے کہ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِىْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِىْۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ(54)
(54) And the king said: Bring him to me, I will choose him for myself. So when he had spoken with him, he said: Surely you are in our presence today an honorable, a faithful one.
(54) اور بادشاہ نے کہا کہ ذرا انہیں لے آؤ میں اپنے ذاتی امور میں ساتھ رکھوں گا اس کے بعد جب ان سے بات کی تو کہا کہ تم آج سے ہمارے دربار میں باوقار امین کی حیثیت سے رہو گے
قَالَ اجْعَلْنِىْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ(55)
(55) He said: Place me (in authority) over the treasures of the land, surely I am a good keeper, knowing well.
(55) یوسف نے کہا کہ مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو کہ میں محافظ بھی ہوں اور صاحب علم بھی
وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِى الْاَرْضِۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ؕ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُۚ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ(56)
(56) And thus did We give to Yusuf power in the land-- he had mastery in it wherever he liked; We send down Our mercy on whom We please, and We do not waste the reward of those who do good.
(56) اور اس طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اختیار دے دیا کہ وہ جہاں چاہیں رہیں -ہم اپنی رحمت سے جس کو بھی چاہتے ہیں مرتبہ دے دیتے ہیں اور کسی نیک کردار کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ(57)
(57) And certainly the reward of the hereafter is much better for those who believe and guard (against evil).
(57) اور آخرت کا اجر تو ان لوگوں کے لئے بہترین ہے جو صاحبانِ ایمان ہیں اور خدا سے ڈرنے والے ہیں
وَجَآءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ(58)
(58) And Yusuf's brothers came and went in to him, and he knew them, while they did not recognize him.
(58) اور جب یوسف کے بھائی مصر آئے اور یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے سب کو پہچان لیا اور وہ لوگ نہیں پہچان سکے
وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِىْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْۤ اُوْفِی الْكَيْلَ وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ(59)
(59) And when he furnished them with their provision, he said: Bring to me a brother of yours from your father; do you not see that I give full measure and that I am the best of hosts?
(59) پھر جب ان کا سامان تیار کردیا تو ان سے کہا کہ تمہارا ایک بھائی اور بھی ہے اسے بھی لے آؤ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں سامان کی ناپ تول بھی برابر رکھتا ہوں اور مہمان نوازی بھی کرنے والا ہوں
فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِىْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِىْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ(60)
(60) But if you do not bring him to me, you shall have no measure (of corn) from me, nor shall you come near me.
(60) اب اگر اسے نہ لے آئے تو آئندہ تمہیں بھی غلہ نہ دوں گا اور نہ میرے پاس آنے پاؤ گے
قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفَاعِلُوْنَ(61)
(61) They said: We will strive to make his father yield in respect of him, and we are sure to do (it).
(61) ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس کے باپ سے بات چیت کریں گے اور ضرور کریں گے
وَقَالَ لِفِتْيٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِىْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰٓى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ(62)
(62) And he said to his servants: Put their money into their bags that they may recognize it when they go back to their family, so that they may come back.
(62) اور یوسف نے اپنے جوانوں سے کہا کہ ان کی پونجی بھی ان کے سامان میں رکھ دو شاید جب گھر پلٹ کر جائیں تو اسے پہچان لیں اور اس طرح شاید دوبارہ پلٹ کر ضرور آئیں
فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(63)
(63) So when they returned to their father, they said: O our father, the measure is withheld from us, therefore send with us our brother, (so that) we may get the measure, and we will most surely guard him.
(63) اب جو پلٹ کر باپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ بابا جان آئندہ ہمیں غلہ سے روک دیا گیا ہے لہذا ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھی بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ حاصل کرلیں اور اب ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں
قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓى اَخِيْهِ مِنْ قَبْلُؕ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ(64)
(64) He said: I cannot trust in you with respect to him, except as I trusted in you with respect to his brother before; but Allah is the best Keeper, and He is the most Merciful of the merciful ones.
(64) یعقوب نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں تمہارے اوپر اسی طرح بھروسہ کریں جس طرح پہلے اس کے بھائی یوسف کے بارے میں کیا تھا -خیر خدا بہترین حفاظت کرنے والا ہے اور وہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَيْهِمْؕ قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِىْؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا ۚ وَنَمِيْرُ اَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍؕ ذٰ لِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ(65)
(65) And when they opened their goods, they found their money returned to them. They said: O our father! what (more) can we desire? This is our property returned to us, and we will bring corn for our family and guard our brother, and will have in addition the measure of a camel (load); this is an easy measure.
(65) پھر جب ان لوگوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کی بضاعت (قیمت) واپس کردی گئی ہے تو کہنے لگا بابا جان اب ہم کیا چاہتے ہیں یہ ہماری پونجی بھی واپس کردی گئی ہے اب ہم اپنے گھر والوں کے لئے غلّہ ضرور لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک اونٹ کا بار اور بڑھوالیں گے کہ یہ بات اس کی موجودگی میں آسان ہے
قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِىْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ(66)
(66) He said: I will by no means send him with you until you give me a firm covenant in Allah's name that you will most certainly bring him back to me, unless you are completely surrounded. And when they gave him their covenant, he said: Allah is the One in Whom trust is placed as regards what we say.
(66) یعقوب نے کہا کہ میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ خدا کی طرف سے عہد نہ کرو گے کہ اسے واپس ضرور لاؤ گے مگر یہ کہ تم ہی کو گھیر لیا جائے -اس کے بعد جب ان لوگوں نے عہد کرلیا تو یعقوب نے کہا کہ اللہ ہم لوگوں کے قول و قرار کا نگراں اور ضامن ہے
وَقَالَ يٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍؕ وَمَاۤ اُغْنِىْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَىْءٍؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُۚ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ(67)
(67) And he said: O my sons! do not (all) enter by one gate and enter by different gates and I cannot avail you aught against Allah; Judgement is only Allah's; on Him do I rely, and on Him let those who are reliant rely.
(67) اور پھر کہا کہ میرے فرزندو د یکھو سب ایک دروازے سے داخل نہ ہونا اور متفرق دروازوں سے داخل ہونا کہ میں خدا کی طرف سے آنے والی بلاؤں میں تمہارے کام نہیں آسکتا حکم صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اسی پر میرا اعتماد ہے اور اسی پر سارے توکل کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہئے
وَلَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَيْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ ؕمَا كَانَ يُغْنِىْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَىْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِىْ نَفْسِ يَعْقُوْبَ قَضٰٮهَاؕ وَاِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ(68)
(68) And when they had entered as their father had bidden them, it did not avail them aught against Allah, but (it was only) a desire in the soul of Yaqoub which he satisfied; and surely he was possessed of knowledge because We had given him knowledge, but most people do not know.
(68) اور جب وہ لوگ اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے والد نے کہا تھا اگرچہ وہ خدائی بلا کو ٹال نہیں سکتے تھے لیکن یہ ایک خواہش تھی جو یعقوب کے دل میں پیدا ہوئی جسے انہوں نے پورا کرلیا اور وہ ہمارے دئیے ہوئے علم کی بنا پر صاحبِ علم بھی تھے اگرچہ اکثر لوگ اس حقیقت سے بھی ناواقف ہیں
وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ(69)
(69) And when they went in to Yusuf. he lodged his brother with himself, saying: I am your brother, therefore grieve not at what they do.
(69) اور جب وہ لوگ یوسف کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس پناہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں لہذا جو برتاؤ یہ لوگ کرتے رہے ہیں اب اس کی طرف سے رنج نہ کرنا
فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِىْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَ يَّتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسَارِقُوْنَ(70)
(70) So when he furnished them with their provisions, (someone) placed the drinking cup in his brother's bag. Then a crier cried out: O caravan! you are most surely thieves.
(70) اس کے بعد جب یوسف نے ان کا سامان تیار کرادیا تو پیالہ کو اپنے بھائی کے سامان میں رکھوادیا اس کے بعد منادی نے آواز دی کہ قافلے والو تم سب چور ہو
قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ(71)
(71) They said while they were facing them: What is it that you miss?
(71) ان لوگوں نے مڑ کر دیکھا اور کہا کہ آخر تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے
قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ(72)
(72) They said: We miss the king's drinking cup, and he who shall bring it shall have a camel-load and I am responsible for it.
(72) ملازمین نے کہا کہ بادشاہ کا پیالہ نہیں مل رہا ہے اور جو اسے لے کر آئے گا اسے ایک اونٹ کا بار غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِيْنَ(73)
(73) They said: By Allah! you know for certain that we have not come to make mischief in the land, and we are not thieves.
(73) ان لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم تمہیں تو معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں
قَالُوْا فَمَا جَزَاۤؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ(74)
(74) They said: But what shall be the requital of this, if you are liars?
(74) ملازموں نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس کی سزا کیا ہے
قَالُوْا جَزَاۤؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِىْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۤؤُهٗؕ كَذٰلِكَ نَجْزِى الظّٰلِمِيْنَ(75)
(75) They said: The requital of this is that the person in whose bag it is found shall himself be (held for) the satisfaction thereof; thus do we punish the wrongdoers.
(75) ان لوگوں نے کہا کہ اس کی سزا خود وہ شخص ہے جس کے سامان میں سے پیالہ برآمد ہو ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزادیتے ہیں
فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِيْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِيْهِؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَؕ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِىْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ وَفَوْقَ كُلِّ ذِىْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ(76)
(76) So he began with their sacks before the sack of his brother, then he brought it out from his brother's sack. Thus did We plan for the sake of Yusuf; it was not (lawful) that he should take his brother under the king's law unless Allah pleased; We raise the degrees of whomsoever We please, and above every one possessed of knowledge is the All-knowing one.
(76) اس کے بعد بھائی کے سامان سے پہلے دوسرے بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی اور آخر میں بھائی کے سامان میں سے پیالہ نکال لیا .... اور اس طرح ہم نے یوسف کے حق میں تدبیر کی کہ وہ بادشاہ کے قانون سے اپنے بھائی کو نہیں لے سکتے تھے مگر یہ کہ خدا خود چاہے ہم جس کو چاہتے ہیں اس کے درجات کو بلند کردیتے ہیں اور ہر صاحب علم سے برتر ایک صاحب علم ہوتا ہے
قَالُوْۤا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ ۚ فَاَسَرَّهَا يُوْسُفُ فِىْ نَفْسِهٖ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ(77)
(77) They said: If he steal, a brother of his did indeed steal before; but Yusuf kept it secret in his heart and did not disclose it to them. He said: You are in an evil condition and Allah knows best what you state.
(77) ان لوگوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو کیا تعجب ہے اس کا بھائی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے -یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں چُھپالیا اور ان پر اظہار نہیں کیا .... کہاکہ تم بڑے برے لوگ ہو اور اللہ تمہارے بیانات کے بارے میں زیادہ بہتر جاننے والا ہے
قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ(78)
(78) They said: O chief! he has a father, a very old man, therefore retain one of us in his stead; surely we see you to be of the doers of good.
(78) ان لوگوں نے کہا کہ اے عزیز مصر اس کے والد بہت ضعیف العمر ہیں لہذا ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ پر لے لیجئے اور اسے چھوڑ دیجئے کہ ہم آپ کو احسان کرنے والا سمجھتے ہیں
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ(79)
(79) He said: Allah protect us that we should seize other than him with whom we found our property, for then most surely we would be unjust.
(79) یوسف نے کہا کہ خدا کی پناہ کہ ہم جس کے پاس اپنا سامان پائیں اس کے علاوہ کسی دوسرے کو گرفت میں لے لیں اور اس طرح ظالم ہوجائیں
فَلَمَّا اسْتَايْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا ؕ قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِىْ يُوْسُفَ ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِىْۤ اَبِىْۤ اَوْ يَحْكُمَ اللّٰهُ لِىْ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ(80)
(80) Then when they despaired of him, they retired, conferring privately together. The eldest of them said: Do you not know that your father took from you a covenant in Allah's name, and how you fell short of your duty with respect to Yusuf before? Therefore I will by no means depart from this land until my father permits me or Allah decides for me, and He is the best of the judges:
(80) اب جب وہ لوگ یوسف کی طرف سے مایوس ہوگئے تو الگ جاکر مشورہ کرنے لگے تو سب سے بڑے نے کہا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے باپ نے تم سے خدائی عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں کوتاہی کرحُکے ہو تو اب میں تو اس سرزمین کو نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ والد محترم اجازت دے دیں یا خدا میرے حق میں کوئی فیصلہ کردے کہ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
اِرْجِعُوْۤا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ فَقُوْلُوْا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَۚ وَمَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ(81)
(81) Go back to your father and say: O our father! surely your son committed theft, and we do not bear witness except to what we have known, and we could not keep watch over the unseen:
(81) ہاں تم لوگ باپ کی خدمت میں جاؤ اور عرض کرو کہ آپ کے فرزند نے چوری کی ہے اور ہم اسی بات کی گواہی دے رہے ہیں جس کا ہمیں علم ہے اور ہم غیب کی حفاظت کرنے والے نہیں ہیں
وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِىْ كُنَّا فِيْهَا وَالْعِيْرَ الَّتِىْ اَقْبَلْنَا فِيْهَاؕ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ(82)
(82) And inquire in the town in which we were and the caravan with which we proceeded, and most surely we are truthful.
(82) آپ اس بستی سے دریافت کرلیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے پوچھ لیں جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچےّ ہیں
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِىْ بِهِمْ جَمِيْعًاؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ(83)
(83) He (Yaqoub) said: Nay, your souls have made a matter light for you, so patience is good; maybe Allah will bring them all together to me; surely He is the Knowing, the Wise.
(83) یعقوب نے کہا کہ یہ تمہارے دل نے ایک نئی بات گڑھ لی ہے میں پھر بھی صبرجمیل اختیار کروں گا کہ شائد خدا ان سب کو لے آئے کہ وہ ہر شئے کا جاننے والا اور صاحب حکمت ہے
وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ(84)
(84) And he turned away from them, and said: O my sorrow for Yusuf! and his eyes became white on account of the grief, and he was a repressor (of grief).
(84) ےہ کہہ کر انہوں نے سب سے منھ پھےر لیااور کہا کہ افسوس ہے یوسف کے حال پر اوراتناروئے کہ آنکھیں سفیدہو گئیں اور غم کے گھونٹ پیتے رہے
قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهَالِكِيْنَ(85)
(85) They said: By Allah! you will not cease to remember Yusuf until you are a prey to constant disease or (until) you are of those who perish.
(85) ان لوگوں نے کہا کہ آپ اسی طرح یوسف کویاد کرتے رہیںگے یہاں تک کہ بیمار ہوجائیں یا ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو جائیں
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّىْ وَحُزْنِىْۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(86)
(86) He said: I only complain of my grief and sorrow to Allah, and I know from Allah what you do not know.
(86) یعقوب نے کہا کہ میں اپنے حزن و غم اور اپنی بےقراری کی فریاد اللہ کی بارگاہ میں کر رہا ہوں اورا س کی طرف سے وہ سب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو
يٰبَنِىَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ وَلَا تَايْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِؕ اِنَّهٗ لَا يَايْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ(87)
(87) O my sons! Go and inquire respecting Yusuf and his brother, and despair not of Allah's mercy; surely none despairs of Allah's mercy except the unbelieving people.
(87) میرے فرزندو جاؤ یوسف اور ان کے بھائی کو خوب تلاش کرو اور رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا کہ اس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا ہے
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰٮةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَاؕ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِى الْمُتَصَدِّقِيْنَ(88)
(88) So when they came in to him, they said: O chief! distress has afflicted us and our family and we have brought scanty money, so give us full measure and be charitable to us; surely Allah rewards the charitable.
(88) اب جو وہ لوگ دوبارہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ اے عزیز ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو بڑی تکلیف ہے اور ہم ایک حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں آپ ہمیں پورا پورا غلہ دے دیں اور ہم پر احسان کریں کہ خدا کارخیر کرنے والوں کو جزاءئے خیر دیتا ہے
قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ(89)
(89) He said: Do you know how you treated Yusuf and his brother when you were ignorant?
(89) اس نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور ان کے بھائی کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ہے جب کہ تم بالکل جاہل تھے
قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُؕ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهٰذَاۤ اَخِىْ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَاؕ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ(90)
(90) They said: Are you indeed Yusuf? He said: I am Yusuf and this is my brother; Allah has indeed been gracious to us; surely he who guards (against evil) and is patient (is rewarded) for surely Allah does not waste the reward of those who do good.
(90) ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بیشک میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے -اللہ نے ہمارے اوپر احسان کیا ہے اور جو کوئی بھی تقوٰی اور صبر اختیار کرتاہے اللہ نیک عمل کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِئِيْنَ(91)
(91) They said: By Allah! now has Allah certainly chosen you over us, and we were certainly sinners.
(91) ان لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم خدا نے آپ کو فضیلت اور امتیاز عطا کیا ہے اور ہم سب خطاکار تھے
قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَؕ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ(92)
(92) He said: (There shall be) no reproof against you this day; Allah may forgive you, and He is the most Merciful of the merciful.
(92) یوسف نے کہا کہ آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیںہے .خدا تمہیں معاف کردے گا کہ وہ بڑا رحم کرنے والا ہے
اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِىْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِىْ يَاْتِ بَصِيْرًاۚ وَاْتُوْنِىْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ(93)
(93) Take this my shirt and cast it on my father's face, he will (again) be able to see, and come to me with all your families.
(93) جاؤ میری قمیض لے کر جاؤ اور بابا کے چہرہ پر ڈال دو کہ ان کی بصارت پلٹ آئے گی اور اس مرتبہ اپنے تمام گھر والوں کو ساتھ لے کر آنا
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ(94)
(94) And when the caravan had departed, their father said: Most surely I perceive the greatness of Yusuf, unless you pronounce me to be weak in Judgement.
(94) اب جو قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو ان کے پدر بزرگوار نے کہا کہ میں یوسف کی خوشبو محسوس کررہا ہوں اگر تم لوگ مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو
قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِىْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ(95)
(95) They said: By Allah, you are most surely in your old error.
(95) ان لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنی پرانی گمراہی میں مبتلا ہیں
فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰٮهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا ؕۚ قَالَ اَلَمْ اَقُل لَّكُمْ ۚ ۙ اِنِّىْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(96)
(96) So when the bearer of good news came he cast it on his face, so forthwith he regained his sight. He said: Did I not say to you that I know from Allah what you do not know?
(96) اس کے بعد جب بشیر نے آکر قمیض کو یعقوب کے چہرہ پر ڈال دیا تو دوبارہ صاحب بصارت ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو
قَالُوْا يٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِيْنَ(97)
(97) They said: O our father! ask forgiveness of our faults for us, surely we were sinners.
(97) ان لوگوں نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے
قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىْؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ(98)
(98) He said: I will ask for you forgiveness from my Lord; surely He is the Forgiving, the Merciful.
(98) انہوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَؕ(99)
(99) Then when they came in to Yusuf, he took his parents to lodge with him and said: Enter safe into Egypt, if Allah please.
(99) اس کے بعد جب وہ لوگ سب یوسف کے یہاں حاضر ہوئے تو انہوں نے ماں باپ کو اپنے پہلو میں جگہ دی اور کہا کہ آپ لوگ مصر میں انشاء اللہ بڑے اطمینان و سکون کے ساتھ داخل ہوں
وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًاۚ وَقَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَاىَ مِنْ قَبْلُقَدْ جَعَلَهَا رَبِّىْ حَقًّاؕ وَقَدْ اَحْسَنَ بِىْۤ اِذْ اَخْرَجَنِىْ مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِىْ وَبَيْنَ اِخْوَتِىْؕ اِنَّ رَبِّىْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَآءُؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ(100)
(100) And he raised his parents upon the throne and they fell down in prostration before him, and he said: O my father! this is the significance of my vision of old; my Lord has indeed made it to be true; and He was indeed kind to me when He brought me forth from the prison and brought you from the desert after the Shaitan had sown dissensions between me and my brothers, surely my Lord is benignant to whom He pleases; surely He is the Knowing, the Wise.
(100) اور انہوں نے والدین کو بلند مقام پر تخت پر جگہ دی اور سب لوگ یوسف کے سامنے سجدہ میں گر پڑے یوسف نے کہا کہ بابا یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے جسے میرے پروردگار نے سچ کر دکھایا ہے اور اس نے میرے ساتھ احسان کیا ہے کہ مجھے قید خانہ سے نکال لیا اور آپ لوگوں کو گاؤں سے نکال کر مصر میں لے آیا جب کہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد پیدا کرچکا تھا -بیشک میرا پروردگار اپنے ارادوں کی بہترین تدبیر کرنے والا اور صاحب علم اور صاحب حکمت ہے
رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِىْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِىْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِىّٖ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ تَوَفَّنِىْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِىْ بِالصّٰلِحِيْنَ(101)
(101) My Lord! Thou hast given me of the kingdom and taught me of the interpretation of sayings: Originator of the heavens and the earth! Thou art my guardian in this world and the hereafter; make me die a muslim and join me with the good.
(101) پروردگار تو نے مجھے ملک بھی عطا کیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دیا -تو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور دنیا وآخرت میں میرا ولی اور سرپرست ہے مجھے دنیا سے فرمانبردار اٹھانا اور صالحین سے ملحق کردینا
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ(102)
(102) This is of the announcements relating to the unseen (which) We reveal to you, and you were not with them when they resolved upon their affair, and they were devising plans.
(102) پیغمبر! سب غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم وحی کے ذریعہ آپ تک پہنچا رہے ہیں ورنہ آپ تو اس وقت نہ تھے جب وہ لوگ اپنے کام پر اتفاق کررہے تھے اور یوسف کے بارے میں بری تدبیریں کررہے تھے
وَمَاۤاَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ(103)
(103) And most men will not believe though you desire it eagerly.
(103) اور آپ کسی قدر کیوں نہ چاہیں انسانوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے
وَمَا تَسْئَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ(104)
(104) And you do not ask them for a reward for this; it is nothing but a reminder for all mankind.
(104) اور آپ ان سے تبلیغ رسالت کی اجرت تو نہیں مانگتے ہیں یہ قرآن تو عالمین کے لئے ایک ذکر اور نصیحت ہے
وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ(105)
(105) And how many a sign in the heavens and the earth which they pass by, yet they turn aside from it.
(105) اور زمین و آسمان میں بہت سی نشانیاں ہیں جن سے لوگ گزر جاتے ہیں اور کنارہ کش ہی رہتے ہیں
وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ(106)
(106) And most of them do not believe in Allah without associating others (with Him).
(106) اور ان میں کی اکثریت خدا پر ایمان بھی لاتی ہے تو شرک کے ساتھ
اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ(107)
(107) Do they then feel secure that there may come to them an extensive chastisement from Allah or (that) the hour may come to them suddenly while they do not perceive?
(107) تو کیا یہ لوگ اس بات کی طرف سے مطمئن ہوگئے ہیں کہ کہیں ان پر عذاب الٰہی آکر چھاجائے یا اچانک قیامت آجائے اور یہ غافل ہی رہ جائیں
قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِىْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ ؔعَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىْؕ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ(108)
(108) Say: This is my way: I call to Allah, I and those who follow me being certain, and glory be to Allah, and I am not one of the polytheists.
(108) آپ کہہ دیجئے کہ یہی میرا راستہ ہے کہ میں بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں اور میرے ساتھ میرا اتباع کرنے والا بھی ہے اور خدا پاک و بے نیازہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِىْۤ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰىؕ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(109)
(109) And We have not sent before you but men from (among) the people of the towns, to whom We sent revelations. Have they not then travelled in the land and seen what was the end of those before them? And certainly the abode of the hereafter is best for those who guard (against evil); do you not then understand?
(109) اور ہم نے آپ سے پہلے ان ہی مردوں کو رسول بنایا ہے جو آبادیوں میں رہنے والے تھے اور ہم نے ان کی طرف وحی بھی کی ہے تو کیا یہ لوگ زمین میں سیر نہیں کرتے کہ دیکھیں کہ ان سے پہلے والوں کا انجام کیا ہوا ہے اور دار آخرت صرف صاحبانِ تقوٰی کے لئے بہترین منزل ہے -کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ہو
حَتّٰۤى اِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّىَ مَنْ نَّشَآءُ ؕ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ(110)
(110) Until when the apostles despaired and the people became sure that they were indeed told a lie, Our help came to them and whom We pleased was delivered; and Our punishment is not averted from the guilty people.
(110) یہاں تک کہ جب ان کے انکار سے مرسلین مایوس ہونے لگے اور ان لوگوں نے سمجھ لیاکہ ان سے جھوٹا وعدہ کیا گیا ہے تو ہماری مدد مرسلین کے پاس آگئی اور ہم نے جن لوگوں کو چاہا انہیں نجات دے دی اور ہمارا عذاب مجرم قوم سے پلٹایا نہیں جاسکتا ہے
لَقَدْ كَانَ فِىْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِى الْاَلْبَابِؕ مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِىْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَىْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ(111)
(111) In their histories there is certainly a lesson for men of understanding. It is not a narrative which could be forged, but a verification of what is before it and a distinct explanation of all things and a guide and a mercy to a people who believe.
(111) یقینا ان کے واقعات میں صاحبانِ عقل کے لئے سامان عبرت ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے گڑھ لیا جائے یہ قرآن پہلے کی تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں ہر شے کی تفصیل ہے اور یہ صاحبِ ایمان قوم کے لئے ہدایت اور رحمت بھی ہے