Juzz : 13

پارہ : ۱۳

وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِىْ‌ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىْ ؕاِنَّ رَبِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(53)

(53) And I do not declare myself free, most surely (man's) self is wont to command (him to do) evil, except such as my Lord has had mercy on, surely my Lord is Forgiving, Merciful.

(53) اور میں اپنے نفس کو بھی بری نہیں قرار دیتا کہ نفس بہرحال برائیوں کا حکم دینے والا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے کہ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِىْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِىْ‌ۚ‌ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ‏(54)

(54) And the king said: Bring him to me, I will choose him for myself. So when he had spoken with him, he said: Surely you are in our presence today an honorable, a faithful one.

(54) اور بادشاہ نے کہا کہ ذرا انہیں لے آؤ میں اپنے ذاتی امور میں ساتھ رکھوں گا اس کے بعد جب ان سے بات کی تو کہا کہ تم آج سے ہمارے دربار میں باوقار امین کی حیثیت سے رہو گے

قَالَ اجْعَلْنِىْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ‌ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ‏(55)

(55) He said: Place me (in authority) over the treasures of the land, surely I am a good keeper, knowing well.

(55) یوسف نے کہا کہ مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو کہ میں محافظ بھی ہوں اور صاحب علم بھی

وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِى الْاَرْضِ‌ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ‌ ؕ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ‌ۚ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ‏(56)

(56) And thus did We give to Yusuf power in the land-- he had mastery in it wherever he liked; We send down Our mercy on whom We please, and We do not waste the reward of those who do good.

(56) اور اس طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اختیار دے دیا کہ وہ جہاں چاہیں رہیں -ہم اپنی رحمت سے جس کو بھی چاہتے ہیں مرتبہ دے دیتے ہیں اور کسی نیک کردار کے اجر کو ضائع نہیں کرتے

وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ‏(57)

(57) And certainly the reward of the hereafter is much better for those who believe and guard (against evil).

(57) اور آخرت کا اجر تو ان لوگوں کے لئے بہترین ہے جو صاحبانِ ایمان ہیں اور خدا سے ڈرنے والے ہیں

وَجَآءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ‏(58)

(58) And Yusuf's brothers came and went in to him, and he knew them, while they did not recognize him.

(58) اور جب یوسف کے بھائی مصر آئے اور یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے سب کو پہچان لیا اور وہ لوگ نہیں پہچان سکے

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِىْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ‌ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْۤ اُوْفِی الْكَيْلَ وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ‏(59)

(59) And when he furnished them with their provision, he said: Bring to me a brother of yours from your father; do you not see that I give full measure and that I am the best of hosts?

(59) پھر جب ان کا سامان تیار کردیا تو ان سے کہا کہ تمہارا ایک بھائی اور بھی ہے اسے بھی لے آؤ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں سامان کی ناپ تول بھی برابر رکھتا ہوں اور مہمان نوازی بھی کرنے والا ہوں

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِىْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِىْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ‏(60)

(60) But if you do not bring him to me, you shall have no measure (of corn) from me, nor shall you come near me.

(60) اب اگر اسے نہ لے آئے تو آئندہ تمہیں بھی غلہ نہ دوں گا اور نہ میرے پاس آنے پاؤ گے

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفَاعِلُوْنَ‏(61)

(61) They said: We will strive to make his father yield in respect of him, and we are sure to do (it).

(61) ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس کے باپ سے بات چیت کریں گے اور ضرور کریں گے

وَقَالَ لِفِتْيٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِىْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰٓى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ‏(62)

(62) And he said to his servants: Put their money into their bags that they may recognize it when they go back to their family, so that they may come back.

(62) اور یوسف نے اپنے جوانوں سے کہا کہ ان کی پونجی بھی ان کے سامان میں رکھ دو شاید جب گھر پلٹ کر جائیں تو اسے پہچان لیں اور اس طرح شاید دوبارہ پلٹ کر ضرور آئیں

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ‏(63)

(63) So when they returned to their father, they said: O our father, the measure is withheld from us, therefore send with us our brother, (so that) we may get the measure, and we will most surely guard him.

(63) اب جو پلٹ کر باپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ بابا جان آئندہ ہمیں غلہ سے روک دیا گیا ہے لہذا ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھی بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ حاصل کرلیں اور اب ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓى اَخِيْهِ مِنْ قَبْلُ‌ؕ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا‌ وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ‏(64)

(64) He said: I cannot trust in you with respect to him, except as I trusted in you with respect to his brother before; but Allah is the best Keeper, and He is the most Merciful of the merciful ones.

(64) یعقوب نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں تمہارے اوپر اسی طرح بھروسہ کریں جس طرح پہلے اس کے بھائی یوسف کے بارے میں کیا تھا -خیر خدا بہترین حفاظت کرنے والا ہے اور وہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَيْهِمْؕ قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِىْؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا‌ ۚ وَنَمِيْرُ اَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍ‌ؕ ذٰ لِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ‏(65)

(65) And when they opened their goods, they found their money returned to them. They said: O our father! what (more) can we desire? This is our property returned to us, and we will bring corn for our family and guard our brother, and will have in addition the measure of a camel (load); this is an easy measure.

(65) پھر جب ان لوگوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کی بضاعت (قیمت) واپس کردی گئی ہے تو کہنے لگا بابا جان اب ہم کیا چاہتے ہیں یہ ہماری پونجی بھی واپس کردی گئی ہے اب ہم اپنے گھر والوں کے لئے غلّہ ضرور لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک اونٹ کا بار اور بڑھوالیں گے کہ یہ بات اس کی موجودگی میں آسان ہے

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِىْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ‌ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ‏(66)

(66) He said: I will by no means send him with you until you give me a firm covenant in Allah's name that you will most certainly bring him back to me, unless you are completely surrounded. And when they gave him their covenant, he said: Allah is the One in Whom trust is placed as regards what we say.

(66) یعقوب نے کہا کہ میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ خدا کی طرف سے عہد نہ کرو گے کہ اسے واپس ضرور لاؤ گے مگر یہ کہ تم ہی کو گھیر لیا جائے -اس کے بعد جب ان لوگوں نے عہد کرلیا تو یعقوب نے کہا کہ اللہ ہم لوگوں کے قول و قرار کا نگراں اور ضامن ہے

وَقَالَ يٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ‌ؕ وَمَاۤ اُغْنِىْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَىْءٍؕ‌ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ‌ؕ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ‌ۚ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ‏(67)

(67) And he said: O my sons! do not (all) enter by one gate and enter by different gates and I cannot avail you aught against Allah; Judgement is only Allah's; on Him do I rely, and on Him let those who are reliant rely.

(67) اور پھر کہا کہ میرے فرزندو د یکھو سب ایک دروازے سے داخل نہ ہونا اور متفرق دروازوں سے داخل ہونا کہ میں خدا کی طرف سے آنے والی بلاؤں میں تمہارے کام نہیں آسکتا حکم صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اسی پر میرا اعتماد ہے اور اسی پر سارے توکل کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہئے

وَلَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَيْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ ؕمَا كَانَ يُغْنِىْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَىْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِىْ نَفْسِ يَعْقُوْبَ قَضٰٮهَا‌ؕ وَاِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(68)

(68) And when they had entered as their father had bidden them, it did not avail them aught against Allah, but (it was only) a desire in the soul of Yaqoub which he satisfied; and surely he was possessed of knowledge because We had given him knowledge, but most people do not know.

(68) اور جب وہ لوگ اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے والد نے کہا تھا اگرچہ وہ خدائی بلا کو ٹال نہیں سکتے تھے لیکن یہ ایک خواہش تھی جو یعقوب کے دل میں پیدا ہوئی جسے انہوں نے پورا کرلیا اور وہ ہمارے دئیے ہوئے علم کی بنا پر صاحبِ علم بھی تھے اگرچہ اکثر لوگ اس حقیقت سے بھی ناواقف ہیں

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ‌ قَالَ اِنِّىْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(69)

(69) And when they went in to Yusuf. he lodged his brother with himself, saying: I am your brother, therefore grieve not at what they do.

(69) اور جب وہ لوگ یوسف کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس پناہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں لہذا جو برتاؤ یہ لوگ کرتے رہے ہیں اب اس کی طرف سے رنج نہ کرنا

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِىْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَ يَّتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسَارِقُوْنَ‏(70)

(70) So when he furnished them with their provisions, (someone) placed the drinking cup in his brother's bag. Then a crier cried out: O caravan! you are most surely thieves.

(70) اس کے بعد جب یوسف نے ان کا سامان تیار کرادیا تو پیالہ کو اپنے بھائی کے سامان میں رکھوادیا اس کے بعد منادی نے آواز دی کہ قافلے والو تم سب چور ہو

قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ‏(71)

(71) They said while they were facing them: What is it that you miss?

(71) ان لوگوں نے مڑ کر دیکھا اور کہا کہ آخر تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ‏(72)

(72) They said: We miss the king's drinking cup, and he who shall bring it shall have a camel-load and I am responsible for it.

(72) ملازمین نے کہا کہ بادشاہ کا پیالہ نہیں مل رہا ہے اور جو اسے لے کر آئے گا اسے ایک اونٹ کا بار غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِيْنَ‏(73)

(73) They said: By Allah! you know for certain that we have not come to make mischief in the land, and we are not thieves.

(73) ان لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم تمہیں تو معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں

قَالُوْا فَمَا جَزَاۤؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ‏(74)

(74) They said: But what shall be the requital of this, if you are liars?

(74) ملازموں نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس کی سزا کیا ہے

قَالُوْا جَزَاۤؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِىْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۤؤُهٗ‌ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِى الظّٰلِمِيْنَ‏(75)

(75) They said: The requital of this is that the person in whose bag it is found shall himself be (held for) the satisfaction thereof; thus do we punish the wrongdoers.

(75) ان لوگوں نے کہا کہ اس کی سزا خود وہ شخص ہے جس کے سامان میں سے پیالہ برآمد ہو ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزادیتے ہیں

فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِيْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِيْهِ‌ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ‌ؕ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِىْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ‌ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ‌ؕ وَفَوْقَ كُلِّ ذِىْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ‏(76)

(76) So he began with their sacks before the sack of his brother, then he brought it out from his brother's sack. Thus did We plan for the sake of Yusuf; it was not (lawful) that he should take his brother under the king's law unless Allah pleased; We raise the degrees of whomsoever We please, and above every one possessed of knowledge is the All-knowing one.

(76) اس کے بعد بھائی کے سامان سے پہلے دوسرے بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی اور آخر میں بھائی کے سامان میں سے پیالہ نکال لیا .... اور اس طرح ہم نے یوسف کے حق میں تدبیر کی کہ وہ بادشاہ کے قانون سے اپنے بھائی کو نہیں لے سکتے تھے مگر یہ کہ خدا خود چاہے ہم جس کو چاہتے ہیں اس کے درجات کو بلند کردیتے ہیں اور ہر صاحب علم سے برتر ایک صاحب علم ہوتا ہے

قَالُوْۤا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ‌ ۚ فَاَسَرَّهَا يُوْسُفُ فِىْ نَفْسِهٖ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ‌ ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ‌ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ‏(77)

(77) They said: If he steal, a brother of his did indeed steal before; but Yusuf kept it secret in his heart and did not disclose it to them. He said: You are in an evil condition and Allah knows best what you state.

(77) ان لوگوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو کیا تعجب ہے اس کا بھائی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے -یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں چُھپالیا اور ان پر اظہار نہیں کیا .... کہاکہ تم بڑے برے لوگ ہو اور اللہ تمہارے بیانات کے بارے میں زیادہ بہتر جاننے والا ہے

قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ‏(78)

(78) They said: O chief! he has a father, a very old man, therefore retain one of us in his stead; surely we see you to be of the doers of good.

(78) ان لوگوں نے کہا کہ اے عزیز مصر اس کے والد بہت ضعیف العمر ہیں لہذا ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ پر لے لیجئے اور اسے چھوڑ دیجئے کہ ہم آپ کو احسان کرنے والا سمجھتے ہیں

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ‏(79)

(79) He said: Allah protect us that we should seize other than him with whom we found our property, for then most surely we would be unjust.

(79) یوسف نے کہا کہ خدا کی پناہ کہ ہم جس کے پاس اپنا سامان پائیں اس کے علاوہ کسی دوسرے کو گرفت میں لے لیں اور اس طرح ظالم ہوجائیں

فَلَمَّا اسْتَايْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا‌ ؕ قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِىْ يُوْسُفَ‌ ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِىْۤ اَبِىْۤ اَوْ يَحْكُمَ اللّٰهُ لِىْ‌ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ‏(80)

(80) Then when they despaired of him, they retired, conferring privately together. The eldest of them said: Do you not know that your father took from you a covenant in Allah's name, and how you fell short of your duty with respect to Yusuf before? Therefore I will by no means depart from this land until my father permits me or Allah decides for me, and He is the best of the judges:

(80) اب جب وہ لوگ یوسف کی طرف سے مایوس ہوگئے تو الگ جاکر مشورہ کرنے لگے تو سب سے بڑے نے کہا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے باپ نے تم سے خدائی عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں کوتاہی کرحُکے ہو تو اب میں تو اس سرزمین کو نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ والد محترم اجازت دے دیں یا خدا میرے حق میں کوئی فیصلہ کردے کہ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے

اِرْجِعُوْۤا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ فَقُوْلُوْا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ‌ۚ وَمَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ‏(81)

(81) Go back to your father and say: O our father! surely your son committed theft, and we do not bear witness except to what we have known, and we could not keep watch over the unseen:

(81) ہاں تم لوگ باپ کی خدمت میں جاؤ اور عرض کرو کہ آپ کے فرزند نے چوری کی ہے اور ہم اسی بات کی گواہی دے رہے ہیں جس کا ہمیں علم ہے اور ہم غیب کی حفاظت کرنے والے نہیں ہیں

وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِىْ كُنَّا فِيْهَا وَالْعِيْرَ الَّتِىْ اَقْبَلْنَا فِيْهَا‌ؕ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ‏(82)

(82) And inquire in the town in which we were and the caravan with which we proceeded, and most surely we are truthful.

(82) آپ اس بستی سے دریافت کرلیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے پوچھ لیں جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچےّ ہیں

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا‌ؕ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ‌ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِىْ بِهِمْ جَمِيْعًا‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ‏(83)

(83) He (Yaqoub) said: Nay, your souls have made a matter light for you, so patience is good; maybe Allah will bring them all together to me; surely He is the Knowing, the Wise.

(83) یعقوب نے کہا کہ یہ تمہارے دل نے ایک نئی بات گڑھ لی ہے میں پھر بھی صبرجمیل اختیار کروں گا کہ شائد خدا ان سب کو لے آئے کہ وہ ہر شئے کا جاننے والا اور صاحب حکمت ہے

وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ‏(84)

(84) And he turned away from them, and said: O my sorrow for Yusuf! and his eyes became white on account of the grief, and he was a repressor (of grief).

(84) ےہ کہہ کر انہوں نے سب سے منھ پھےر لیااور کہا کہ افسوس ہے یوسف کے حال پر اوراتناروئے کہ آنکھیں سفیدہو گئیں اور غم کے گھونٹ پیتے رہے

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهَالِكِيْنَ‏(85)

(85) They said: By Allah! you will not cease to remember Yusuf until you are a prey to constant disease or (until) you are of those who perish.

(85) ان لوگوں نے کہا کہ آپ اسی طرح یوسف کویاد کرتے رہیںگے یہاں تک کہ بیمار ہوجائیں یا ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو جائیں

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّىْ وَحُزْنِىْۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‏(86)

(86) He said: I only complain of my grief and sorrow to Allah, and I know from Allah what you do not know.

(86) یعقوب نے کہا کہ میں اپنے حزن و غم اور اپنی بےقراری کی فریاد اللہ کی بارگاہ میں کر رہا ہوں اورا س کی طرف سے وہ سب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو

يٰبَنِىَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ وَلَا تَايْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّهٗ لَا يَايْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ‏(87)

(87) O my sons! Go and inquire respecting Yusuf and his brother, and despair not of Allah's mercy; surely none despairs of Allah's mercy except the unbelieving people.

(87) میرے فرزندو جاؤ یوسف اور ان کے بھائی کو خوب تلاش کرو اور رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا کہ اس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا ہے

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰٮةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَاؕ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِى الْمُتَصَدِّقِيْنَ‏(88)

(88) So when they came in to him, they said: O chief! distress has afflicted us and our family and we have brought scanty money, so give us full measure and be charitable to us; surely Allah rewards the charitable.

(88) اب جو وہ لوگ دوبارہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ اے عزیز ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو بڑی تکلیف ہے اور ہم ایک حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں آپ ہمیں پورا پورا غلہ دے دیں اور ہم پر احسان کریں کہ خدا کارخیر کرنے والوں کو جزاءئے خیر دیتا ہے

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ‏(89)

(89) He said: Do you know how you treated Yusuf and his brother when you were ignorant?

(89) اس نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور ان کے بھائی کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ہے جب کہ تم بالکل جاہل تھے

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ‌ؕ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهٰذَاۤ اَخِىْ‌ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَاؕ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ‏(90)

(90) They said: Are you indeed Yusuf? He said: I am Yusuf and this is my brother; Allah has indeed been gracious to us; surely he who guards (against evil) and is patient (is rewarded) for surely Allah does not waste the reward of those who do good.

(90) ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بیشک میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے -اللہ نے ہمارے اوپر احسان کیا ہے اور جو کوئی بھی تقوٰی اور صبر اختیار کرتاہے اللہ نیک عمل کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِئِيْنَ‏(91)

(91) They said: By Allah! now has Allah certainly chosen you over us, and we were certainly sinners.

(91) ان لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم خدا نے آپ کو فضیلت اور امتیاز عطا کیا ہے اور ہم سب خطاکار تھے

قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ‌ؕ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ‌ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ‏(92)

(92) He said: (There shall be) no reproof against you this day; Allah may forgive you, and He is the most Merciful of the merciful.

(92) یوسف نے کہا کہ آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیںہے .خدا تمہیں معاف کردے گا کہ وہ بڑا رحم کرنے والا ہے

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِىْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِىْ يَاْتِ بَصِيْرًا‌ۚ وَاْتُوْنِىْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ‏(93)

(93) Take this my shirt and cast it on my father's face, he will (again) be able to see, and come to me with all your families.

(93) جاؤ میری قمیض لے کر جاؤ اور بابا کے چہرہ پر ڈال دو کہ ان کی بصارت پلٹ آئے گی اور اس مرتبہ اپنے تمام گھر والوں کو ساتھ لے کر آنا

وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ‌ لَوْلَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ‏(94)

(94) And when the caravan had departed, their father said: Most surely I perceive the greatness of Yusuf, unless you pronounce me to be weak in Judgement.

(94) اب جو قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو ان کے پدر بزرگوار نے کہا کہ میں یوسف کی خوشبو محسوس کررہا ہوں اگر تم لوگ مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِىْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ‏(95)

(95) They said: By Allah, you are most surely in your old error.

(95) ان لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنی پرانی گمراہی میں مبتلا ہیں

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰٮهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا ‌ ؕۚ قَالَ اَلَمْ اَقُل لَّكُمْ‌ ۚ‌ ۙ اِنِّىْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‏(96)

(96) So when the bearer of good news came he cast it on his face, so forthwith he regained his sight. He said: Did I not say to you that I know from Allah what you do not know?

(96) اس کے بعد جب بشیر نے آکر قمیض کو یعقوب کے چہرہ پر ڈال دیا تو دوبارہ صاحب بصارت ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو

قَالُوْا يٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِيْنَ‏(97)

(97) They said: O our father! ask forgiveness of our faults for us, surely we were sinners.

(97) ان لوگوں نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىْؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ‏(98)

(98) He said: I will ask for you forgiveness from my Lord; surely He is the Forgiving, the Merciful.

(98) انہوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اور مہربان ہے

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَؕ‏(99)

(99) Then when they came in to Yusuf, he took his parents to lodge with him and said: Enter safe into Egypt, if Allah please.

(99) اس کے بعد جب وہ لوگ سب یوسف کے یہاں حاضر ہوئے تو انہوں نے ماں باپ کو اپنے پہلو میں جگہ دی اور کہا کہ آپ لوگ مصر میں انشاء اللہ بڑے اطمینان و سکون کے ساتھ داخل ہوں

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا‌ۚ وَقَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَاىَ مِنْ قَبْلُقَدْ جَعَلَهَا رَبِّىْ حَقًّا‌ؕ وَقَدْ اَحْسَنَ بِىْۤ اِذْ اَخْرَجَنِىْ مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِىْ وَبَيْنَ اِخْوَتِىْ‌ؕ اِنَّ رَبِّىْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَآءُ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ‏(100)

(100) And he raised his parents upon the throne and they fell down in prostration before him, and he said: O my father! this is the significance of my vision of old; my Lord has indeed made it to be true; and He was indeed kind to me when He brought me forth from the prison and brought you from the desert after the Shaitan had sown dissensions between me and my brothers, surely my Lord is benignant to whom He pleases; surely He is the Knowing, the Wise.

(100) اور انہوں نے والدین کو بلند مقام پر تخت پر جگہ دی اور سب لوگ یوسف کے سامنے سجدہ میں گر پڑے یوسف نے کہا کہ بابا یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے جسے میرے پروردگار نے سچ کر دکھایا ہے اور اس نے میرے ساتھ احسان کیا ہے کہ مجھے قید خانہ سے نکال لیا اور آپ لوگوں کو گاؤں سے نکال کر مصر میں لے آیا جب کہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد پیدا کرچکا تھا -بیشک میرا پروردگار اپنے ارادوں کی بہترین تدبیر کرنے والا اور صاحب علم اور صاحب حکمت ہے

رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِىْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِىْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ‌ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِىّٖ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ‌ ۚ تَوَفَّنِىْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِىْ بِالصّٰلِحِيْنَ‏(101)

(101) My Lord! Thou hast given me of the kingdom and taught me of the interpretation of sayings: Originator of the heavens and the earth! Thou art my guardian in this world and the hereafter; make me die a muslim and join me with the good.

(101) پروردگار تو نے مجھے ملک بھی عطا کیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دیا -تو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور دنیا وآخرت میں میرا ولی اور سرپرست ہے مجھے دنیا سے فرمانبردار اٹھانا اور صالحین سے ملحق کردینا

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ‌ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ‏(102)

(102) This is of the announcements relating to the unseen (which) We reveal to you, and you were not with them when they resolved upon their affair, and they were devising plans.

(102) پیغمبر! سب غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم وحی کے ذریعہ آپ تک پہنچا رہے ہیں ورنہ آپ تو اس وقت نہ تھے جب وہ لوگ اپنے کام پر اتفاق کررہے تھے اور یوسف کے بارے میں بری تدبیریں کررہے تھے

وَمَاۤاَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ‏(103)

(103) And most men will not believe though you desire it eagerly.

(103) اور آپ کسی قدر کیوں نہ چاہیں انسانوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے

وَمَا تَسْئَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ‌ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ‏(104)

(104) And you do not ask them for a reward for this; it is nothing but a reminder for all mankind.

(104) اور آپ ان سے تبلیغ رسالت کی اجرت تو نہیں مانگتے ہیں یہ قرآن تو عالمین کے لئے ایک ذکر اور نصیحت ہے

وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ‏(105)

(105) And how many a sign in the heavens and the earth which they pass by, yet they turn aside from it.

(105) اور زمین و آسمان میں بہت سی نشانیاں ہیں جن سے لوگ گزر جاتے ہیں اور کنارہ کش ہی رہتے ہیں

وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ‏(106)

(106) And most of them do not believe in Allah without associating others (with Him).

(106) اور ان میں کی اکثریت خدا پر ایمان بھی لاتی ہے تو شرک کے ساتھ

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ‏(107)

(107) Do they then feel secure that there may come to them an extensive chastisement from Allah or (that) the hour may come to them suddenly while they do not perceive?

(107) تو کیا یہ لوگ اس بات کی طرف سے مطمئن ہوگئے ہیں کہ کہیں ان پر عذاب الٰہی آکر چھاجائے یا اچانک قیامت آجائے اور یہ غافل ہی رہ جائیں

قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِىْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ ؔعَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىْ‌ؕ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ‏(108)

(108) Say: This is my way: I call to Allah, I and those who follow me being certain, and glory be to Allah, and I am not one of the polytheists.

(108) آپ کہہ دیجئے کہ یہی میرا راستہ ہے کہ میں بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں اور میرے ساتھ میرا اتباع کرنے والا بھی ہے اور خدا پاک و بے نیازہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں

وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِىْۤ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى‌ؕ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ‌ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‏(109)

(109) And We have not sent before you but men from (among) the people of the towns, to whom We sent revelations. Have they not then travelled in the land and seen what was the end of those before them? And certainly the abode of the hereafter is best for those who guard (against evil); do you not then understand?

(109) اور ہم نے آپ سے پہلے ان ہی مردوں کو رسول بنایا ہے جو آبادیوں میں رہنے والے تھے اور ہم نے ان کی طرف وحی بھی کی ہے تو کیا یہ لوگ زمین میں سیر نہیں کرتے کہ دیکھیں کہ ان سے پہلے والوں کا انجام کیا ہوا ہے اور دار آخرت صرف صاحبانِ تقوٰی کے لئے بہترین منزل ہے -کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ہو

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّىَ مَنْ نَّشَآءُ ‌ؕ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ‏(110)

(110) Until when the apostles despaired and the people became sure that they were indeed told a lie, Our help came to them and whom We pleased was delivered; and Our punishment is not averted from the guilty people.

(110) یہاں تک کہ جب ان کے انکار سے مرسلین مایوس ہونے لگے اور ان لوگوں نے سمجھ لیاکہ ان سے جھوٹا وعدہ کیا گیا ہے تو ہماری مدد مرسلین کے پاس آگئی اور ہم نے جن لوگوں کو چاہا انہیں نجات دے دی اور ہمارا عذاب مجرم قوم سے پلٹایا نہیں جاسکتا ہے

لَقَدْ كَانَ فِىْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِى الْاَلْبَابِ‌ؕ مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِىْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَىْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ‏(111)

(111) In their histories there is certainly a lesson for men of understanding. It is not a narrative which could be forged, but a verification of what is before it and a distinct explanation of all things and a guide and a mercy to a people who believe.

(111) یقینا ان کے واقعات میں صاحبانِ عقل کے لئے سامان عبرت ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے گڑھ لیا جائے یہ قرآن پہلے کی تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں ہر شے کی تفصیل ہے اور یہ صاحبِ ایمان قوم کے لئے ہدایت اور رحمت بھی ہے

SURAH RA’D

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓمّٓرٰ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ‌ؕ وَالَّذِىْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ‏(1)

(1) Alif Lam Mim Ra. These are the verses of the Book; and that which is revealed to you from your Lord is the truth, but most people do not believe.

(1) المۤرۤ -یہ کتاب خدا کی آیتیں ہیں اور جو کچھ بھی آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ سب برحق ہے لیکن لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے

اَللّٰهُ الَّذِىْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا‌ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ‌ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ‌ؕ كُلٌّ يَّجْرِىْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ‏(2)

(2) Allah is He Who raised the heavens without any pillars that you see, and He is firm in power and He made the sun and the moon subservient (to you); each one pursues its course to an appointed time; He regulates the affair, making clear the signs that you may be certain of meeting your Lord.

(2) اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر کسی ستون کے بلند کردیا ہے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اس کے بعد اس نے عر ش پر اقتدار قائم کیا اور آفتاب و ماہتاب کو مسخر بنایا کہ سب ایک معینہ مدّت تک چلتے رہیں گے وہی تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اپنی آ یات کو مفصل طور سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم لوگ پروردگار کی ملاقات کا یقین پیدا کرلو

وَهُوَ الَّذِىْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِىَ وَاَنْهٰرًا‌ ؕ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ‌ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ‌ ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ‏(3)

(3) And He it is Who spread the earth and made in it firm mountains and rivers, and of all fruits He has made in it two kinds; He makes the night cover the day; most surely there are signs in this for a people who reflect.

(3) وہ خدا وہ ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں ا ٹل قسم کے پہا ڑ قرار دئیے اور نہریں جاری کیں اور ہر پھل کا جوڑا قرار دیا وہ رات کے پردے سے دن کو ڈھانک دیتا ہے اور اس میں صاحبانِ فکر و نظر کے لئے بڑ ی نشانیاں پائی جاتی ہیں

وَ فِى الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِى الْاُكُلِ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ‏(4)

(4) And in the earth there are tracts side by side and gardens of grapes and corn and palm trees having one root and (others) having distinct roots-- they are watered with one water, and We make some of them excel others in fruit; most surely there are signs in this for a people who understand.

(4) اور زمین کے متعدد ٹکڑے آپس میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور انگور کے باغات ہیں اور زرا عت ہے اور کھجوریں ہیں جن میں بعض دو شاخ کی ہیں اور بعض ایک شاخ کی ہیں اور سب ایک ہی پانی سے سینچے جاتے ہیں اور ہم بعض کو بعض پر کھانے میں ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بھی صاحبانِ عقل کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِىْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ  ؕ اُولٰۤئِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ‌ۚ وَاُولٰۤئِكَ الْاَغْلٰلُ فِىْۤ اَعْنَاقِهِمْ‌ۚ وَاُولٰۤئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ‌ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ‏(5)

(5) And if you would wonder, then wondrous is their saying: What! when we are dust, shall we then certainly be in a new creation? These are they who disbelieve in their Lord, and these have chains on their necks, and they are the inmates of the fire; in it they shall abide.

(5) اور اگر تمہیں کسی بات پر تعّجب ہے تو تّعجب کی بات ان لوگوں کا یہ قول ہے کہ کیا ہم خاک ہوجانے کے بعد بھی نئے سرے سے دوبارہ پیدا کئے جائیں گے .یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ہے اور ان ہی کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور یہی اہل جہّنم ہیں اور اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ‌ؕ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ‌ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ‏(6)

(6) And they ask you to hasten on the evil before the good, and indeed there have been exemplary punishments before them; and most surely your Lord is the Lord of forgiveness to people, notwithstanding their injustice; and most surely your Lord is severe in requiting (evil).

(6) اور اے رسول یہ لوگ آپ سے بھلائی سے پہلے ہی برائی (عذاب) چاہتے ہیں جب کہ ان کے پہلے بہت سی عذاب کی نظریں گزر چکی ہیں اور آپ کا پروردگار لوگوں کے لئے ان کے ظلم پر بخشنے والا بھی ہے اور بہت سخت عذاب کرنے والا بھی ہے

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ‌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ‏(7)

(7) And those who disbelieve say: Why has not a sign been sent down upon him from his Lord? You are only a warner and (there is) a guide for every people.

(7) اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی نشانی (ہماری مطلوبہ) کیوں نہیں نازل ہوتی تو آپ کہہ دیجئے کہ میں صرف ڈرانے والا ہوں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے

اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ‌ؕ وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ‏(8)

(8) Allah knows what every female bears, and that of which the wombs fall short of completion and that in which they increase; and there is a measure with Him of everything.

(8) اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہر عورت کے شکم میں کیا ہے اور اس کے رحم میں کیا کمی اور زیادتی ہوتی رہتی ہے اور ہر شے کی اس کے نزدیک ایک مقدار معین ہے

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِ‏(9)

(9) The knower of the unseen and the seen, the Great, the Most High.

(9) وہ غائب و حاضر سب کا جاننے والا بزرگ و بالاتر ہے

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ‏(10)

(10) Alike (to Him) among you is he who conceals (his) words and he who speaks them openly, and he who hides himself by night and (who) goes forth by day.

(10) اس کے نزدیک تم میں کے سب برابر ہیں جو بات آہستہ کہے اور جو بلند آواز سے کہے اور جو رات میں چھپارہے اور دن میں چلتا رہے

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ‌ؕ وَاِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۤءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ‌ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ‏(11)

(11) For his sake there are angels following one another, before him and behind him, who guard him by Allah's commandment; surely Allah does not change the condition of a people until they change their own condition; and when Allah intends evil to a people, there is no averting it, and besides Him they have no protector.

(11) اس کے لئے سامنے اور پیچھے سے محافظ طاقتیں ہیں جو حکم خدا سے اس کی حفاظت کرتی ہیں اور خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرلے اور جب خدا کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرلیتا ہے تو کوئی ٹال نہیں سکتا ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئی کسی کا والی و سرپرست ہے

هُوَ الَّذِىْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ‌ۚ‏(12)

(12) He it is Who shows you the lightning causing fear and hope and (Who) brings up the heavy cloud.

(12) وہی خدا ہے جو تمہیں ڈرانے اور لالچ دلانے کے لئے بجلیاں دکھاتا ہے اور پانی سے لدے ہوئے بوجھل بادل ایجاد کرتا ہے

‌وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۤئِكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ ‌ۚ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَآءُ وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِى اللّٰه‌ۚ ِ وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِؕ‏(13)

(13) And the thunder declares His glory with His praise, and the angels too for awe of Him; and He sends the thunderbolts and smites with them whom He pleases, yet they dispute concerning Allah, and He is mighty in prowess.

(13) گرج اس کی حمد کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں اور بجلیوں کو بھیجتا ہے تو جس تک چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے اور یہ لوگ اللہ کے بارے میں کج بحثی کررہے ہیں جب کہ وہ بہت مضبوط قوت اور عظیم طاقت والا ہے

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ‌ؕ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَهُمْ بِشَىْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ‌ؕ وَمَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلٰلٍ‏(14)

(14) To Him is due the true prayer; and those whom they pray to besides Allah give them no answer, but (they are) like one who stretches forth his two hands towards water that it may reach his mouth, but it will not reach it; and the prayer of the unbelievers is only in error.

(14) برحق پکارنا صرف خدا ہی کا پکارنا ہے اور جو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی کوئی بات قبول نہیں کرسکتے سوائے اس شخص کے مانند جو پانی کی طرف ہتھیلی پھیلائے ہو کہ منہ تک پہنچ جائے اور وہ پہنچنے والا نہیں ہے اور کافروں کی دعا ہمیشہ گمراہی میں رہتی ہے

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ۩‏(15)

(15) And whoever is in the heavens and the earth makes obeisance to Allah only, willingly and unwillingly, and their shadows too at morn and eve.

(15) اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان والے ہنسی خوشی یا زبردستی سجدہ کررہے ہیں اور صبح و شام ان کے سائے بھی سجدہ کناں ہیں

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِؕ قُلِ اللّٰهُ‌ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا‌ؕ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ۙ اَمْ هَلْ تَسْتَوِى الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ ۚ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ‌ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَىْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ‏(16)

(16) Say: Who is the Lord of the heavens and the earth?-- Say: Allah. Say: Do you take then besides Him guardians who do not control any profit or harm for themselves? Say: Are the blind and the seeing alike? Or can the darkness and the light be equal? Or have they set up with Allah associates who have created creation like His, so that what is created became confused to them? Say: Allah is the Creator of all things, and He is the One, the Supreme.

(16) پیغمبر کہہ دیجئے کہ بتاؤ کہ زمین و آسمان کا پروردگار کون ہے اور بتادیجئے کہ اللہ ہی ہے اور کہہ دیجئے کہ تم لوگوں نے اس کو چھوڑ کر ایسے سرپرست اختیار کئے ہیں جو خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور کہئے کہ کیا اندھے اور بینا ایک جیسے ہوسکتے ہیں یا نورو ظلمت برابر ہوسکتے ہیں یا ان لوگوں نے اللہ کے لئے ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اسی کی طرح کی کائنات خلق کی ہے اور ان پر خلقت مشتبہ ہوگئی ہے. کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہی یکتا اور سب پر غالب ہے

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا‌ ؕ وَمِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِى النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ‌ ؕ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ؕ  فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءً‌‌ ۚ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى الْاَرْضِ‌ؕ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ‏(17)

(17) He sends down water from the cloud, then watercourses flow (with water) according to their measure, and the torrent bears along the swelling foam, and from what they melt in the fire for the sake of making ornaments or apparatus arises a scum like it; thus does Allah compare truth and falsehood; then as for the scum, it passes away as a worthless thing; and as for that which profits the people, it tarries in the earth; thus does Allah set forth parables.

(17) اس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیوں میں بقدر ظرف بہنے لگا اور سیلاب میں جوش کھا کر جھاگ آگیا اور اس دھات سے بھی جھاگ پیدا ہوگیا جسے آگ پر زیور یا کوئی دوسرا سامان بنانے کے لئے پگھلاتے ہیں. اسی طرح پروردگار حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے کہ جھاگ خشک ہوکر فنا ہوجاتا ہے اور جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتا ہے اور خدا اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے

لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰىؔ‌ؕ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ اُولٰۤئِكَ لَهُمْ سُوْۤءُ الْحِسَابِ ۙ وَمَاْوٰٮهُمْ جَهَنَّمُ‌ؕ وَبِئْسَ الْمِهَادُ‏(18)

(18) For those who respond to their Lord is good; and (as for) those who do not respond to Him, had they all that is in the earth and the like thereof with it they would certainly offer it for a ransom. (As for) those, an evil reckoning shall be theirs and their abode is hell, and evil is the resting-place.

(18) جو لوگ پروردگار کی بات کو قبول کرلیتے ہیں ان کے لئے نیکی ہے اور جو اس کی بات کو قبول نہیں کرتے انہیں زمین کے سارے خزانے بھی مل جائیں اور اسی قدر اور بھی مل جائے تو یہ بطور فدیہ دے دیں گے لیکن ان کے لئے بدترین حساب ہے اور ان کا ٹھکانا جہّنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰىؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ‏(19)

(19) Is he then who knows that what has been revealed to you from your Lord is the truth like him who is blind? Only those possessed of understanding will mind,

(19) کیا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا سب برحق ہے وہ اس کے جیسا ہوسکتا ہے جو بالکل اندھا ہے (ہرگز نہیں) اس بات کو صرف صاحبانِ عقل ہی سمجھ سکتے ہیں

الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَۙ‏(20)

(20) Those who fulfil the promise of Allah and do not break the covenant,

(20) جو عہدُ خدا کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے ہیں

وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ يَخَافُوْنَ سُوْۤءَ الْحِسَابِؕ‏(21)

(21) And those who join that which Allah has bidden to be joined and have awe of their Lord and fear the evil reckoning.

(21) اور جو ان تعلقات کو قائم رکھتے ہیں جنہیں خدا نے قائم رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور بدترین حساب سے خوفزدہ رہتے ہیں

وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً وَّيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۤئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ‏(22)

(22) And those who are constant, seeking the pleasure of their Lord, and keep up prayer and spend (benevolently) out of what We have given them secretly and openly and repel evil with good; as for those, they shall have the (happy) issue of the abode

(22) اور جنہوں نے مرضی خدا حاصل کرنے کے لئے صبر کیا ہے اور نماز قائم کی ہے اور ہمارے رزق میں سے خفیہ و علانیہ انفاق کیا ہے اور جو نیکی کے ذریعہ برائی کو دفع کرتے رہتے ہیں آخرت کا گھر ان ہی کے لئے ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰتِهِمْ‌ وَالْمَلٰٓئِكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ‌ۚ‏(23)

(23) The gardens of perpetual abode which they will enter along with those who do good from among their parents and their spouses and their offspring; and the angels will enter in upon them from every gate:

(23) یہ ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں جن میں یہ خود اور ان کے آباء و اجداد اور ازواج و اولاد میں سے سارے نیک بندے داخل ہوں گے اور ملائکہ ان کے پاس ہر دروازے سے حاضری دیں گے

سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ‌ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ‏(24)

(24) Peace be on you because you were constant, how excellent, is then, the issue of the abode.

(24) کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو کہ تم نے صبر کیا ہے اور اب آخرت کا گھر تمہاری بہترین منزل ہے

وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ‌ۙ اُولٰۤئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۤءُ الدَّارِ‏(25)

(25) And those who break the covenant of Allah after its confirmation and cut asunder that which Allah has ordered to be joined and make mischief in the land; (as for) those, upon them shall be curse and they shall have the evil (issue) of the abode.

(25) اور جو لوگ عہدُ خدا کو توڑ دیتے ہیں اور جن سے تعلقات کا حکم دیا گیا ہے ان سے قطع تعلقات کرلیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ان کے لئے لعنت اور بدترین گھر ہے

اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيَقْدِرُ‌ؕ وَفَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ؕ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِى الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ‏(26)

(26) Allah amplifies and straitens the means of subsistence for whom He pleases; and they rejoice in this world's life, and this world's life is nothing compared with the hereafter but a temporary enjoyment.

(26) اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو وسیع یا تنگ کردیتا ہے اور یہ لوگ صرف زندگانی دنیا پر خوش ہوگئے ہیں حالانکہ آخرت کے مقابلہ میں زندگانی دنیا صرف ایک وقتی لذّت کا درجہ رکھتی ہے اور بس

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَآءُ وَيَهْدِىْۤ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ ‌ۖ ‌ۚ‏(27)

(27) And those who disbelieve say: Why is not a sign sent down upon him by his Lord? Say: Surely Allah makes him who will go astray, and guides to Himself those who turn (to Him).

(27) اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ان کے اوپر ہماری پسند کی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی تو پیغمبر کہہ دیجئے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جو اس کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں انہیں ہدایت دے دیتا ہے

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ؕ‏(28)

(28) Those who believe and whose hearts are set at rest by the remembrance of Allah; now surely by Allah's remembrance are the hearts set at rest.

(28) یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دُلوں کو یادُ خدا سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور آگاہ ہوجاؤ کہ اطمینان یادُ خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ‏(29)

(29) (As for) those who believe and do good, a good final state shall be theirs and a goodly return.

(29) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے بہترین جگہ ) بہشت(اور بہترین بازگشت ہے

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِىْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَيْهِمُ الَّذِىْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ وَ هُمْ يَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ‌ؕ قُلْ هُوَ رَبِّىْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ مَتَابِ‏(30)

(30) And thus We have sent you among a nation before which other nations have passed away, that you might recite to them what We have revealed to you and (still) they deny the Beneficent Allah. Say: He is my Lord, there is no god but He; on Him do I rely and to Him is my return.

(30) اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی قوم کے درمیان بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکیِ ہیں تاکہ آپ ان چیزوں کی تلاوت کریں جنہیں ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی نازل کیا ہے حالانکہ وہ لوگ رحمان کا انکار کرنے والے ہیں آپ ان سے کہئے کہ وہ میرا رب ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اسی پر میرا اعتماد ہے اور اسی کی طرف بازگشت ہے

وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى‌ ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا ‌ؕ اَفَلَمْ يَايْئَسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا ؕ وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِىَ وَعْدُ اللّٰهِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ‏(31)

(31) And even if there were a Quran with which the mountains were made to pass away, or the earth were travelled over with it, or the dead were made to speak thereby; nay! the commandment is wholly Allah's, Have not yet those who believe known that if Allah please He would certainly guide all the people? And (as for) those who disbelieve, there will not cease to afflict them because of what they do a repelling calamity, or it will alight close by their abodes, until the promise of Allah comes about; surely Allah will not fail in (His) promise.

(31) اور اگر کوئی قرآن ایسا ہو جس سے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے چلایا جاسکے یا زمین طے کی جاسکے یا مردوں سے کلام کیا جاسکے -تو وہ یہی قرآن ہے- بلکہ تمام امور اللہ کے لئے ہیں تو کیا ایمان والوں پر واضح نہیں ہوا کہ اگر خدا جبرا چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا اور ان کافروں پر ان کے کرتوت کی بنا پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی مصیبت پڑتی رہے گی یا ان کے دیار کے آس پاس مصیبت آتی رہے گی یہاں تک کہ وعدہ الٰہی کا وقت آجائے کہ اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ‌ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ‏(32)

(32) And apostles before you were certainly mocked at, but I gave respite to those who disbelieved, then I destroyed them; how then was My requital (of evil)?

(32) پیغمبر آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے تو ہم نے کافروں کو تھوڑی دیر کی مہلت دیدی اور اس کے بعد اپنی گرفت میں لے لیا تو کیسا سخت عذاب ہوا

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ‌ۚ وَجَعَلُوْالِلّٰهِ شُرَكَآءَ ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ‌ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِؕ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ‌ؕ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ‏(33)

(33) Is He then Who watches every soul as to what it earns? And yet they give associates to Allah! Say: Give them a name; nay, do you mean to inform Him of what He does not know in the earth, or (do you affirm this) by an outward saying? Rather, their plans are made to appear fair-seeming to those who disbelieve, and they are kept back from the path; and whom Allah makes err, he shall have no guide.

(33) کیا وہ ذات جو ہر نفس کے اعمال کی نگراں ہے اور انہوں نے اس کے لئے شریک فرض کرلئے ہیں تو کہئے کہ ذرا شرکاء کے نام تو بتاؤ تم خدا کو ان شرکاء کی خبر دے رہے ہو جن کی ساری زمین میں اسے بھی خبر نہیں ہے یا فقط یہ ظاہری الفاظ ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ کافروں کے لئے ان کا مکر آراستہ ہوگیا ہے اور انہیں راہ حق سے روک دیا گیا ہے اور جسے خدا ہدایت نہ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے

لَهُمْ عَذَابٌ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا‌ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ‌ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ‏(34)

(34) They shall have chastisement in this world's life, and the chastisement of the hereafter is certainly more grievous, and they shall have no protector against Allah.

(34) ان کے لئے زندگانی دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو اور زیادہ سخت ہے اور پھر اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِىْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ‌ ؕ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ‌ ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّظِلُّهَا‌ ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْا‌ ‌ۖ  وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ‏(35)

(35) A likeness of the garden which the righteous are promised; there now beneath it rivers, its food and shades are perpetual; this is the requital of those who guarded (against evil), and the requital of the unbelievers is the fire.

(35) جس جنت کا صاحبانِ تقویٰ سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور اس کے پھل دائمی ہوں گے اور سایہ بھی ہمیشہ رہے گا -یہ صاحبان تقوٰی کی عاقبت ہے اور کفار کا انجام کار بہرحال جّہنم ہے

وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ‌ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ‌ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَلَاۤ اُشْرِكَ بِهٖؕ اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَاِلَيْهِ مَاٰبِ‏(36)

(36) And those to whom We have given the Book rejoice in that which has been revealed to you, and of the confederates are some who deny a part of it. Say: I am only commanded that I should serve Allah and not associate anything with Him, to Him do I invite (you) and to Him is my return.

(36) اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس تنزیل سے خوش ہیں اور بعض گروہ وہ ہیں جو بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤں میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف سب کی بازگشت ہے

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا‌ ؕ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَمَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِىٍّ وَّلَا وَاقٍ‏(37)

(37) And thus have We revealed it, a true Judgement in Arabic, and if you follow their low desires after what has come to you of knowledge, you shall not have against Allah any guardian or a protector.

(37) اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان بناکر نازل کیا ہے اور اگر آپ علم کے آجانے کے بعد ان کی خواہشات کا اتباع کرلیں گے تو اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کا سرپرست اور بچانے والا نہ ہوگا

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ‌ ؕ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ‌ ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ‏(38)

(38) And certainly We sent apostles before you and gave them wives and children, and it is not in (the power of) an apostle to bring a sign except by Allah's permission; for every term there is an appointment.

(38) ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں اور ان کے لئے ازواج اور اولاد قرار دی ہے اور کسی رسول کے لئے یہ ممکن نہیں ہے وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی نشانی لے آئے کہ ہر مدّت اور معیاد کے لئے ایک نوشتہ مقرر ہے

يَمْحُوْا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ ‌ۖ ‌ۚ وَعِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ‏(39)

(39) Allah makes to pass away and establishes what He pleases, and with Him is the basis of the Book.

(39) اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے یا برقر ار رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِىْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ‏(40)

(40) And We will either let you see part of what We threaten them with or cause you to die, for only the delivery of the message is (incumbent) on you, while calling (them) to account is Our (business).

(40) اور اے پیغمبر ہم کفار سے کئے وعدہ عذاب کو تمہیں دکھلادیں یا تمہیں اٹھالیں تمہارا کام تو صرف احکام کا پہنچا دینا ہے حساب کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِى الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا ؕ‌ وَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ‌ؕ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ‏(41)

(41) Do they not see that We are bringing destruction upon the land by curtailing it of its sides? And Allah pronounces a doom-- there is no repeller of His decree, and He is swift to take account.

(41) کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم کس طرح زمین کی طرف آکر اس کو اطراف سے کم کردیتے ہیں اور اللہ ہی حکم دینے والا ہے کوئی اس کے حکم کا ٹالنے والا نہیں ہے اور وہ بہت تیز حساب کرنے والا ہے

وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا‌ؕ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍؕ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ‏(42)

(42) And those before them did indeed make plans, but all planning is Allah's; He knows what every soul earns, and the unbelievers shall come to know for whom is the (better) issue of the abode.

(42) اور ان کے پہلے والوں نے بھی مکر کیا ہے لیکن ساری تدبیریں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں وہ ہر نفس کے کاروبار کو جانتا ہے اور عنقریب کفار بھی جان لیں گے کہ آخرت کا گھر کس کے لئے ہے

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا‌ ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ‏(43)

(43) And those who disbelieve say: You are not a messenger. Say: Allah is sufficient as a witness between me and you and whoever has knowledge of the Book.

(43) اور یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے

SURAH IBRAHIM

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الۤرٰ‌ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ  ۙ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِۙ‏(1)

(1) Alif Lam Ra. (This is) a Book which We have revealed to you that you may bring forth men, by their Lord's permission from utter darkness into light-- to the way of the Mighty, the Praised One,

(1) الۤر -یہ کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو حکم خدا سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں اور خدائے عزیز و حمید کے راستے پر لگادیں

اللّٰهِ الَّذِىْ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ‌ؕ وَوَيْلٌ لِّلْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدِ ۙ‏(2)

(2) (Of) Allah, Whose is whatever is in the heavens and whatever Is in the earth; and woe to the unbelievers on account of the severe chastisement,

(2) وہ اللہ وہ ہے جس کے لئے زمین و آسمان کی ہر شے ہے اور کافروں کے لئے تو سخت ترین اور افسوس ناک عذاب ہے

۟الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَهَا عِوَجًا‌ ؕ اُولٰۤئِكَ فِىْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ‏(3)

(3) (To) those who love this world's life more than the hereafter, and turn away from Allah's path and desire to make it crooked; these are in a great error.

(3) وہ لوگ جو زندگانی دنیا کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرتے ہیں اور لوگوں کو راہ خدا سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں یہ گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں

وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ‌ؕ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَآءُ وَيَهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ‌ ؕ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(4)

(4) And We did not send any apostle but with the language of his people, so that he might explain to them clearly; then Allah makes whom He pleases err and He guides whom He pleases and He is the Mighty, the Wise.

(4) اور ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ لوگوں پر باتوں کو واضح کرسکے اس کے بعد خدا جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے وہ صاحب عزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۙ وَذَكِّرْهُمْ بِاَيّٰٮمِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ‏(5)

(5) And certainly We sent Musa with Our communications, saying: Bring forth your people from utter darkness into light and remind them of the days of Allah; most surely there are signs in this for every patient, grateful one.

(5) اور ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو ظلمتوں سے نور کی طرف نکال کر لائیں اور انہیں خدائی دنوں کی یاد دلائیں کہ بیشک اس میں تمام صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ اَنْجٰٮكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۤءَ الْعَذَابِ وَ يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَآءَكُمْ‌ ؕ وَفِىْ ذٰ لِكُمْ بَلَاۤ ءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ‏(6)

(6) And when Musa said to his people: Call to mind Allah's favor to you when He delivered you from Firon's people, who subjected you to severe torment, and slew your sons and spared your women; and in this there was a great trial from your Lord.

(6) اور اس وقت کو یاد کرو جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دلائی جب کہ وہ بدترین عذاب میں مبتلا کررہے تھے کہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو ) کنیزی کے لئے(زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑا سخت امتحان تھا

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ‌ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِىْ لَشَدِيْدٌ‏(7)

(7) And when your Lord made it known: If you are grateful, I would certainly give to you more, and if you are ungrateful, My chastisement is truly severe.

(7) اور جب تمہارے پروردگار نے اعلان کیا کہ اگر تم ہمارا شکریہ اد اکرو گے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو ہمارا عذاب بھی بہت سخت ہے

وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِىٌّ حَمِيْدٌ‏(8)

(8) And Musa said: If you are ungrateful, you and those on earth all together, most surely Allah is Self-sufficient, Praised;

(8) اور موسٰی نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تم سب اور روئے زمین کے تمام بسنے والے بھی کافر ہوجائیں تو ہمارا اللہ سب سے بے نیاز ہے اور وہ قابلِ حمد و ستائش ہے

اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ‌  ۛؕ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ‌ۛؕ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ‌ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَيْدِيَهُمْ فِىْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِىْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ‏(9)

(9) Has not the account reached you of those before you, of the people of Nuh and Ad and Samood, and those after them? None knows them but Allah. Their apostles come to them with clear arguments, but they thrust their hands into their mouths and said: Surely we deny that with which you are sent, and most surely we are in serious doubt as to that to which you invite us.

(9) کیا تمہارے پاس اپنے سے پہلے والوں قوم نوح اور قوم عاد و ثمود اور جو ان کے بعد گزرے ہیں اور جنہیں خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے کی خبر نہیں آئی ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول معجزاءت لے کر آئے اور انہوں نے ان کے ہاتھوں کو ان ہی کے منہ کی طرف پلٹا دیا اور صاف کہہ دیا کہ ہم تمہارے لائے ہوئے پیغام کے منکر ہیں اور ہمیں اس بات کے بارے میں واضح شک ہے جس کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِى اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ؕ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاؕ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ‏(10)

(10) Their apostles said: Is there doubt about Allah, the Maker of the heavens and the earth? He invites you to forgive you your faults and to respite you till an appointed term. They said: You are nothing but mortals like us; you wish to turn us away from what our fathers used to worship; bring us therefore some clear authority.

(10) تو رسولوں نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کے بارے میں بھی شک ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہوں کو معاف کردے اور ایک معینہ مدّت تک زمین میں چین سے رہنے دے ....تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ تم سب بھی ہمارے ہی جیسے بشر ہو اور چاہتے ہو کہ ہمیں ان چیزوں سے روک دو جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے تو اب کوئی کھلی ہوئی دلیل لے آؤ

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ‌ؕ وَمَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ‌ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ‏(11)

(11) Their apostles said to them: We are nothing but mortals like yourselves, but Allah bestows (His) favors on whom He pleases of His servants, and it is not for us that we should bring you an authority except by Allah's permission; and on Allah should the believers rely.

(11) ان سے رسولوں نے کہا کہ یقینا ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں لیکن خدا جس بندے پر چاہتا ہے مخصوص احسان بھی کرتا ہے اور ہمارے اختیار میں یہ بھی نہیں ہے کہ ہم بلااذنِ خدا کوئی دلیل یا معجزہ لے آئیں اور صاحبان ایمان تو صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں

وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰٮنَا سُبُلَنَا‌ؕ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَيْتُمُوْنَا‌ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ‏(12)

(12) And what reason have we that we should not rely on Allah? And He has indeed guided us in our ways; and certainly we would bear with patience your persecution of us; and on Allah should the reliant rely.

(12) اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ اسی نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت دی ہے اور ہم یقینا تمہاری اذیتوں پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والے تو اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِىْ مِلَّتِنَا‌ ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَۙ‏(13)

(13) And those who disbelieved said to their apostles: We will most certainly drive you forth from our land, or else you shall come back into our religion. So their Lord revealed to them: Most certainly We will destroy the unjust.

(13) اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کردیں گے یا تم ہمارے مذہب کی طرف پلٹ آؤ گے تو پروردگار نے ان کی طرف وحی کی کہ خبردار گھبراؤ نہیں ہم یقینا ظالمین کو تباہ و برباد کردیں گے

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ‌ؕ ذٰ لِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِىْ وَخَافَ وَعِيْدِ‏(14)

(14) And most certainly We will settle you in the land after them; this is for him who fears standing in My presence and who fears My threat.

(14) اور تمہیں ان کے بعد زمین میں آباد کردیں گے اور یہ سب ان لوگوں کے لئے ہے جو ہمارے مقام اور مرتبہ سے ڈرتے ہیں اور ہمارے عذاب کا خوف رکھتے ہیں

وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍۙ‏(15)

(15) And they asked for Judgement and every insolent opposer was disappointed:

(15) اور پیغمبروں نے ہم سے فتح کا مطالبہ کیا اور ان سے عناد رکھنے والے سرکش افراد ذلیل اور رسوا ہوگئے

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍۙ‏(16)

(16) Hell is before him and he shall be given to drink of festering water:

(16) ان کے پیچھے جہّنم ہے اور انہیں پیپ دار پانی پلایا جائے گا

يَّتَجَرَّعُهٗ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٗ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍؕ‌ وَمِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ‏(17)

(17) He will drink it little by little and will not be able to swallow it agreeably, and death will come to him from every quarter, but he shall not die; and there shall be vehement chastisement before him.

(17) جسے گھونٹ گھونٹ پئیں گے اور وہ انہیں گوارا نہ ہوگا اور انہیں موت ہر طرف سے گھیر لے گی حالانکہ وہ مرنے والے نہیں ہیں اور ان کے پیچھے بہت سخت عذاب لگا ہوا ہے

مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ‌ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ ۟اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ يَوْمٍ عَاصِفٍ‌ؕ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَىْءٍ‌ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ‏(18)

(18) The parable of those who disbelieve in their Lord: their actions are like ashes on which the wind blows hard on a stormy day; they shall not have power over any thing out of what they have earned; this is the great error.

(18) جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی ہے جسے اندھڑ کے دن کی تند ہوا اڑا لے جائے کہ وہ اپنے حاصل کئے ہوئے پر بھی کوئی اختیار نہ رکھیں گے اور یہی بہت دور تک پھیلی ہوئی گمراہی ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ‌ؕ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍۙ‏(19)

(19) Do you not see that Allah created the heavens and the earth with truth? If He please He will take you off and bring a new creation,

(19) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے وہ چاہے تو تم کو فنا کرکے ایک نئی مخلوق کو لاسکتا ہے

وَّمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ‏(20)

(20) And this is not difficult for Allah.

(20) اور اللہ کے لئے یہ بات کوئی مشکل نہیں ہے

وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰۤؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَىْءٍ‌ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰٮنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ‌ؕ سَوَآءٌ عَلَيْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ‏(21)

(21) And they shall all come forth before Allah, then the weak shall say to those who were proud: Surely we were your followers, can you therefore avert from us any part of the chastisement of Allah? They would say: If Allah had guided us, we too would have guided you; it is the same to us whether we are impatient (now) or patient, there is no place for us to fly to.

(21) اور قیامت کے دن سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو کمزور لوگ مستکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو آپ کے پیروکار تھے تو کیا آپ عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ہمارے کچھ کام آسکتے ہیں تو وہ جواب دیں گے کہ اگر خدا ہمیں ہدایت دے دیتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے -اب تو ہمارے لئے سب ہی برابر ہے چاہے فریاد کریں یا صبر کریں کہ اب کوئی چھٹکارا ملنے والا نہیں ہے

وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِىَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ‌ؕ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِىْ‌ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِىْ وَلُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ‌ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِىَّ‌ ؕ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ‌ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَ لِيْمٌ‏(22)

(22) And the Shaitan shall say after the affair is decided: Surely Allah promised you the promise of truth, and I gave you promises, then failed to keep them to you, and I had no authority over you, except that I called you and you obeyed me, therefore do not blame me but blame yourselves: I cannot be your aider (now) nor can you be my aiders; surely I disbelieved in your associating me with Allah before; surely it is the unjust that shall have the painful punishment.

(22) اور شیطان تمام امور کا فیصلہ ہوجانے کے بعد کہے گا کہ اللہ نے تم سے بالکل برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی ایک وعدہ کیا تھا پھر میں نے اپنے وعدہ کی مخالفت کی اور میرا تمہارے اوپر کوئی زور بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اسے قبول کرلیا تو اب تم میری ملامت نہ کرو بلکہ اپنے نفس کی ملامت کرو کہ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو میں تو پہلے ہی سے اس بات سے بیزار ہوں کہ تم نے مجھے اس کا شریک بنا دیا اور بیشک ظالمین کے لئے بہت بڑا دردناک عذاب ہے

وَاُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ‌ؕ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ‏(23)

(23) And those who believe and do good are made to enter gardens, beneath which rivers flow, to abide in them by their Lord's permission; their greeting therein is, Peace.

(23) اور صاحبان ایمان و عمل صالح کو ان جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گے وہ ہمیشہ حکم خدا سے وہیں رہیں گے اور ان کی ملاقات کا تحفہ سلام ہوگا

اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِى السَّمَآءِۙ‏(24)

(24) Have you not considered how Allah sets forth a parable of a good word (being) like a good tree, whose root is firm and whose branches are in heaven,

(24) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے

تُؤْتِىْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا‌ؕ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ‏(25)

(25) Yielding its fruit in every season by the permission of its Lord? And Allah sets forth parables for men that they may be mindful.

(25) یہ شجرہ ہر زمانہ میں حکم پروردگار سے پھل دیتا رہتا ہے اور خدا لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے کہ شاید اسی طرح ہوش میں آجائیں

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةٍ۟اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ‏(26)

(26) And the parable of an evil word is as an evil tree pulled up from the earth's surface; it has no stability.

(26) اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی کوئی بنیاد نہ ہو

يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ‌ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ‌ ۙ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ‏(27)

(27) Allah confirms those who believe with the sure word in this world's life and in the hereafter, and Allah causes the unjust to go astray, and Allah does what He pleases.

(27) اللہ صاحبان ایمان کو قول ثابت کے ذریعہ دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالمین کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور وہ جو بھی چاہتا ہے انجام دیتا ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ‏(28)

(28) Have you not seen those who have changed Allah's favor for ungratefulness and made their people to alight into the abode of perdition

(28) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفرانِ نعمت سے تبدیل کردیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کی منزل تک پہنچادیا

جَهَنَّمَ‌ۚ يَصْلَوْنَهَا‌ؕ وَبِئْسَ الْقَرَارُ‏(29)

(29) (Into j hell? They shall enter into it and an evil place it is to settle in.

(29) وہ جہنم ّجس میں سب واصل ہوں گے اور وہ بدترین قرار گاہ ہے

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ‌ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ‏(30)

(30) And they set up equals with Allah that they may lead (people) astray from His path. Say: Enjoy yourselves, for surely your return is to the fire.

(30) اور ان لوگوں نے اللہ کے لئے مثل قرار دیئے تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو بہکا سکیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تھوڑے دن اور مزے کرلو پھر تو تمہارا انجام جہّنم ہی ہے

قُلْ لِّعِبَادِىَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ‏(31)

(31) Say to My servants who believe that they should keep up prayer and spend out of what We have given them secretly and openly before the coming of the day in which there shall be no bartering nor mutual befriending.

(31) اور آپ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازیں قائم کریں اور ہمارے رزق میں سے خفیہ اور علانیہ ہماری راہ میں انفاق کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی

اَللّٰهُ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ‌ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِى الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ‌ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ‌ۚ‏(32)

(32) Allah is He Who created the heavens and the earth and sent down water from the clouds, then brought forth with it fruits as a sustenance for you, and He has made the ships subservient to you, that they might run their course in the sea by His command, and He has made the rivers subservient to you.

(32) اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمان سے پانی برسا کر اس کے ذریعہ تمہاری روزی کے لئے پھل پیدا کئے ہیں اور کشتیوں کو مسخر کردیا ہے کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمہارے لئے نہروں کو بھی مسخر کردیا ہے

وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ‌ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ‌ۚ‏(33)

(33) And He has made subservient to you the sun and the moon pursuing their courses, and He has made subservient to you the night and the day.

(33) اور تمہارے لئے حرکت کرنے والے آفتاب و ماہتاب کو بھی مسخر کردیا ہے اور تمہارے لئے رات اور دن کو بھی مسخر کردیا ہے

وَاٰتٰٮكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ‌ ؕ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ‏(34)

(34) And He gives you of all that you ask Him; and if you count Allah's favors, you will not be able to number them; most surely man is very unjust, very ungrateful.

(34) اور جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا اور اگر تم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے -بیشک انسان بڑا ظالم اور انکار کرنے والا ہے

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِىْ وَبَنِىَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ‏(35)

(35) And when Ibrahim said: My Lord! make this city secure, and save me and my sons from worshipping idols:

(35) اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے کہا کہ پروردگار اس شہر کو محفوظ بنادے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھنا

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ‌ۚ فَمَنْ تَبِعَنِىْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ‌ۚ وَمَنْ عَصَانِىْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(36)

(36) My Lord! surely they have led many men astray; then whoever follows me, he is surely of me, and whoever disobeys me, Thou surely art Forgiving, Merciful:

(36) پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو اب جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو معصیت کرے گا اس کے لئے توِ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے

رَبَّنَاۤ اِنِّىْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِىْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِىْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوْا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَ فْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِىْۤ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ‏(37)

(37) O our Lord! surely I have settled a part of my offspring in a valley unproductive of fruit near Thy Sacred House, our Lord! that they may keep up prayer; therefore make the hearts of some people yearn towards them and provide them with fruits; haply they may be grateful:

(37) پروردگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِىْ وَمَا نُعْلِنُ‌ ؕ وَمَا يَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَىْءٍ فِى الْاَرْضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ‏(38)

(38) O our Lord! Surely Thou knowest what we hide and what we make public, and nothing in the earth nor any thing in heaven is hidden from Allah:

(38) پروردگار ہم جس بات کا اعلان کرتے ہیں یا جس کو چھپاتے ہیں تو سب سے باخبر ہے اور اللہ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ وَهَبَ لِىْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ‌ؕ اِنَّ رَبِّىْ لَسَمِيْعُ الدُّعَآءِ‏(39)

(39) Praise be to Allah, Who has given me in old age Ismail and Ishaq; most surely my Lord is the Hearer of prayer:

(39) شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی ہے کہ بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے

رَبِّ اجْعَلْنِىْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ‌‌ ۖ  رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ‏(40)

(40) My Lord! make me keep up prayer and from my offspring (too), O our Lord, and accept my prayer:

(40) پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے

رَبَّنَا اغْفِرْ لِىْ وَلِوَالِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ‏(41)

(41) O our Lord! grant me protection and my parents and the believers on the day when the reckoning shall come to pass!

(41) پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا

وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ‌ ؕ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ ۙ‏(42)

(42) And do not think Allah to be heedless of what the unjust do; He only respites them to a day on which the eyes shall be fixedly open,

(42) اور خبردار خدا کو ظالمین کے اعمال سے غافل نہ سمجھ لینا کہ وہ انہیں اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں خوف سے پتھرا جائیں گی

مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِىْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ‌ ۚ وَاَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌ ؕ‏(43)

(43) Hastening forward, their heads upraised, their eyes not reverting to them and their hearts vacant.

(43) سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے اور پلکیں بھی نہ پلٹتی ہوں گی اور ان کے دل دہشت سے ہوا ہورہے ہوں گے

وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ‌ؕ اَوَلَمْ تَكُوْنُوْۤااَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَالَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ‏(44)

(44) And warn people of the day when the chastisement shall come to them, then those who were unjust will say: O our Lord! respite us to a near term, (so) we shall respond to Thy call and follow the apostles. What! did you not swear before (that) there will be no passing away for you!

(44) اور آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیں جس دن ان تک عذاب آجائے گا تو ظالمین کہیں گے کہ پروردگار ہمیں تھوڑی مدّت کے لئے پلٹا دے کہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں اور تیرے رسولوں کا اتباع کرلیں تو جواب ملے گا کہ کیا تم نے اس سے پہلے قسم نہیں کھائی تھی کہ تمہیں کسی طرح کا زوال نہ ہوگا

وَّسَكَنْتُمْ فِىْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ‏(45)

(45) And you dwell in the abodes of those who were unjust to themselves, and it is clear to you how We dealt with them and We have made (them) examples to you.

(45) اور تم تو ان ہی لوگوں کے مکانات میں ساکن تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور تم پر واضح تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ہے اور ہم نے تمہارے لئے مثالیں بھی بیان کردی تھیں

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْؕ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ‏(46)

(46) And they have indeed planned their plan, but their plan is with Allah, though their plan was such that the mountains should pass away thereby.

(46) اور ان لوگوں نے اپنا سارا مکر صرف کردیا اور خدا کی نگاہ میں ان کا سارا مکر ہے اگرچہ ان کا مکر ایسا تھا کہ اس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذُوْ انْتِقَامٍؕ‏(47)

(47) Therefore do not think Allah (to be one) failing in His promise to His apostles; surely Allah is Mighty, the Lord of Retribution.

(47) تو خبردار تم یہ خیال بھی نہ کرنا کہ خدا اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا اللہ سب پر غالب اور بڑا انتقام لینے والا ہے

يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ‌ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ‏(48)

(48) On the day when the earth shall be changed into a different earth, and the heavens (as well), and they shall come forth before Allah, the One, the Supreme.

(48) اس دن جب زمین دوسری زمین میں تبدیل ہوجائے گی اور آسمان بھی بدل دیئے جائیں گے اور سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے

وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِى الْاَصْفَادِ‌ۚ‏(49)

(49) And you will see the guilty on that day linked together in chains.

(49) اور تم اس دن مجرمین کو دیکھو گے کہ کس طرح زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ‏(50)

(50) Their shirts made of pitch and the fire covering their faces

(50) ان کے لباس قطران کے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آگ ہر طرف سے ڈھانکے ہوئے ہوگی

لِيَجْزِىَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ‏(51)

(51) That Allah may requite each soul (according to) what it has earned; surely Allah is swift in reckoning.

(51) تاکہ خدا ہر نفس کو اس کے کئے کا بدلہ دے دے کہ وہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَلِيَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّلِيَذَّكَّرَ اُولُوا الْا َلْبَابِ‏(52)

(52) This is a sufficient exposition for the people and that they may be warned thereby, and that they may know that He is One Allah and that those possessed of understanding may mind.

(52) بیشک یہ قرآن لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے تاکہ اسی کے ذریعہ انہیں ڈرایا جائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ خدا ہی خدائے واحد و یکتا ہے اور پھر صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کرلیں

SURAH HIJR

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الۤرٰ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ‏(1)

(1) Alif Lam Ra. These are the verses of the Book and (of) a Quran that makes (things) clear.

(1) الرۤ - یہ کتابِ خدا اور قرآنِ مبین کی آیات ہیں